پورن کے ذریعے انتقام

Image caption ٹیکسن ڈاٹ کام ویب سائٹ ہولی کی جانب سے شکایت کے بعد بند کر دی گئی

اگر آپ کو پتہ چلے کہ کسی نے بغیر آپ کی اجازت کے آپ کی عریاں تصاویر انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی ہیں تو آپ کیا کریں گے؟

اسے انتقام لینے کی خاطر پورن نشر کرنا کہا جاتا ہے۔ موبائل فون کیمرے اور جنسی پیغامات کے اس دور میں زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے شکار بنتے جا رہے ہیں۔

لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ہولی ٹاپس ہیں۔ وہ آج بھی اس دن کو یاد کرتی ہیں جس نے ان کی زندگی بدل ڈالی۔

ٹیکسس کی رہنے والی 33 سالہ ہولی ٹوپس کو انٹرنیٹ پر شائع ان کی عریاں تصاویر کے بارے میں ایک دوست نے فون کر کے بتایا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں کام چھوڑ کر سیدھی گھر آئی، دوڑ کر اوپر کمرے میں گئی اور اپنا کمپیوٹر کھولا۔‘

جنوبی مشرقی ٹیکسس کے چھوٹے سے قصبے نیدر لینڈ میں اپنے گھر میں ہولی اسی صوفے پر بیٹھ کر مجھے یہ بات بتا رہی تھی جہاں انھوں نے پہلی بار ویب سائٹ ٹیكسس ڈاٹ کام کا پتہ ٹائپ کیا تھا۔

ویب سائٹ پر جانے کے بعد ہولی ٹوپس کو اپنی برہنہ تصاویر نظر آئیں جو کبھی انھوں نے اپنے بوائے فرینڈ کے لیے کھینچی تھیں۔ ہولی اس وقت 24 برس کی تھیں۔

صرف ان کی برہنہ تصاویر ہی پوسٹ نہیں کی گئی تھیں بلکہ ساتھ ہی ان کا نام، گھر کا پتہ اور گھر کا گوگل پر نقشہ بھی تھا۔ ساتھ ہی ان کے فیس بک کے اکاؤنٹ کا پتہ بھی تھا۔

ہولی کہتی ہیں: ’اگر آپ سارے منفی خیالات کو لیں تو اس وقت وہ سب کے سب میرے اندر موجود تھے۔ میں اپنی تصاویر دیکھ رہی تھی اور لوگ ان پر تبصرے کیے جا رہے تھے۔ کچھ تو کہہ رہے تھے کہ اس کا ریپ ہونا چاہییے۔‘

ابتدائی احساسِ شرمندگی

’ہولی بتاتی ہیں کہ وہ کئی دنوں تک صرف روتی رہیں۔ انھیں اپنے گھر سے باہر نکلنے میں ڈر لگتا تھا اور جب وہ گھر سے باہر نکلتیں تو نامعلوم افراد ان کے پاس آ کر ان سے بات کرنے کی کوشش کرتے۔ یہ وہ لوگ ہوتے تھے جنھوں نے ان کی عریاں تصاویر انٹرنیٹ پر دیکھی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ آپ کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں اور آپ کو شرمندہ کرتے ہیں۔ یہ آپ کے اور انجان لوگوں کے درمیان کھڑی دیوار کو توڑ دیتا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ آپ کو جانتے ہیں کیونکہ انھوں نے آپ کی برہنہ تصاویر دیکھی ہوتی ہیں۔ انجان لوگ جان بوجھ کر آپ کے پاس آنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

جیسا کہ انتقامی پورن کے نام ہی سے ظاہر ہے، ہولی کو بھی شروع میں یہی لگا تھا کہ ان کے سابق بوائے فرینڈ نے یہ تصاویر آن لائن لگائی ہیں۔

لیکن آن لائن لگائی گئی تصاویر میں کچھ ایسی بھی تھیں جو ہولی نے کھینچی تو تھیں لیکن کبھی کسی کو بھیجی نہیں تھیں جس پرانھیں لگا کہ کسی طرح ان کی تصاویر یا تو چرائی گئی ہیں یا ہیک کی گئی ہیں۔

انتقامی پورن کے ہیکر اپنی شکار خواتین کے ای میل یا کلاؤڈ سٹوریج کو ہیک کر لیتے ہیں، لیکن ہولی کو خیال آیا کہ ان کے معاملے میں یہ تصاویر ان کے موبائل سے اس وقت چرائی گئی تھیں جب انھوں نے اسے ٹھیک کروانے کے لیے دیا تھا۔

جلد ہی ہولی کو معلوم ہوا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ ان کے علاقے کی درجنوں دوسری خواتین کی بھی ایسی ہی تصاویر اسی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی تھیں۔ یہ خواتین بھی اسی طرح کے مسائل سے دوچار تھیں۔ کچھ کی نوکریاں ختم ہو گئیں تو کئی کے رشتے خراب ہو گئے۔ ایک نے تو خودکشی تک کرنے کی کوشش کی۔

اپنی تصاویر کو انٹرنیٹ سے ہٹوانے کے لیے ہولی ٹوپس اور دیگر خواتین پولیس اور وکیلوں کے پاس گئیں لیکن ان کی کوئی خاص مدد نہیں ہو سکی۔ ہر جگہ یہی کہا جاتا کہ ان کی کوئی خاص مدد نہیں کی جا سکتی۔ کئی بار تو الٹےانھیں ہی بتایا جاتا کہ انھیں اپنی ایسی تصاویر کھنچوانی ہی نہیں چاہیے تھیں۔

قانونی مسائل

Image caption انتقامی پورن ویب سائٹ سے بہت الجھے ہوئے سوال پیدا ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اس میں سب کچھ غیر قانونی کام ہی ہو

پھر ہولی ٹوپس کو ایک مقامی جاسوس فلپ کلین کے بارے میں پتہ چلا۔ ہولی نے سارے کام چھوڑے اور سیدھی فلپ کے پاس پہنچی۔

ٹوپس یاد کرتی ہیں: ’ایسا لگ رہا تھا جیسے انھوں نے مجھے نئی زندگی دی ہو۔ میں صرف انھیں گلے لگانا چاہتی تھی۔ میں بری طرح پھنسی ہوئی تھی اور وہ پہلے ایسے شخص تھے جنہوں نے کہا تھا کہ میں مدد کر سکتا ہوں۔‘

لیکن اس معاملے میں ایک دقت اور بھی تھی۔ انتقامی پورن ویب سائٹوں سے بہت الجھے ہوئے سوال پیدا ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اس میں سب کچھ غیر قانونی کام ہی ہوتا ہو۔

تفتیش کاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ٹوپس اور دیگر خواتین اس ویب سائٹ میں کئی قوانین کی خلاف ورزیوں کو تلاش کرنے میں کامیاب رہیں اور وہ یہ کہ کچھ خواتین 18 سال سے کم عمر کی تھیں اس لیے ان کی تصاویر چائلڈ پورنوگرافی کے زمرے میں آتی تھیں۔

کچھ خواتین نے دعویٰ کیا کہ جب انھوں نے ویب سائٹ چلانے والے شخص سے تصاویر ہٹانے کے لیے کہا تو اس نے بدلے میں پیسے مانگے جس سے یہ معاملہ بھتہ خوری کے زمرے میں داخل ہو گیا۔

ایک اور راستہ یہ بھی تھا کہ اگر کسی عورت نے اپنی تصاویر خود کھینچی ہیں تو وہ ویب سائٹ پر کاپی رائٹ کا دعویٰ کر دیں اور پھر تصاویر ہٹانے کے لیے کہیں۔

تصاویر کے ویب سائٹ پر شائع ہونے سے اگر قانون کی خلاف ورزی ہو بھی رہی تھی تو یہ واضح نہیں ہو رہا تھا کہ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے۔

بنیادی ذمہ داری ان کی بنتی تھی جنھوں نے تصاویر کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا تھا لیکن ایسے نامعلوم صارفین کو تلاش کرنا مشکل اور طویل عمل تھا۔

ویب سائٹ کے مالک اور اسے ہوسٹ (انٹرنیٹ پر چلانے والی) کمپنی کو نشانہ بنانا بہت آسان ہوتا لیکن امریکی قانون (كميونی كیشن ڈیسنسی ایکٹ کی دفعہ ایس 230) کے تحت ویب سائٹ اور اسے ہوسٹ کرنے والی کمپنی کو صارف کی طرف سے پوسٹ کیے گئے مواد پر وسیع تحفظ دیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فیس بک یا یو ٹیوب پر پوسٹ کیے جانے والے مواد پر ان سائٹیں ذمہ داری سے مبرا رہتی ہیں۔

تفتیش کاروں کافی تگ و دو کے بعد ٹیكسسن ڈاٹ کام کے مالک کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یہ تھے 25 سالہ ہنٹر ٹیلر جو یہ ویب سائٹ چلا رہے تھے۔

تفصیلات پتہ کرنے پر پتا چلا کہ ہنٹر ایک مختلف نام سے فحش فلموں میں کام کر چکا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی برہنہ تصاویر کے ساتھ اس نے نہ صرف خواتین کے نام بلکہ پتے بھی شائع کر دیے تھے۔

ہولی ٹوپس کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب انھیں پتہ چلا کہ ویب سائٹ چلانے والا ہنٹر ٹیلر اور اس کی مدد کرنے والا شخص ان کے پڑوس ہی میں ہی رہتے ہیں۔

وہ یاد کرتی ہیں: ’ایسا لگ رہا تھا جیسے مجھے دورہ پڑا ہو۔ میری سانس پھول رہی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ اتنی گھناؤنی سازش کرنے والے کسی نامعلوم جگہ پر رہتے ہیں، لیکن یہ جاننا کہ وہ میرے قریب ہی رہتے ہیں اور ان میں سے ایک میری دوست کا بوائے فرینڈ تھا، یہ چونکا دینے والا انکشاف تھا۔ میں بہت پریشان ہو گئی تھی۔‘

آخر چائلڈ پورنوگرافی کے الزامات کو ویب سائٹ بند کرنے کے لیے کافی سمجھا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایف بی آئی اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

ٹیکسس انویژن آف پرائیویسی ایکٹ (پرائیویسی کے قانون) کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت اب ہولی ٹوپس اور دیگر خواتین نے ہرجانے کے لیے بھی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

یہ قانون ویب سائٹ کے مالکان ویب ہوسٹنگ کمپنی اور مواد پوسٹ کرنے والوں کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔

اب تک خواتین اس ویب سائٹ کے دوبارہ کھلنے خلاف حکمِ امتناعی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ لیکن ویب سائٹ استثنیٰ قانون اس حکم میں رکاوٹ ہو سکتا ہے اور کئی ماہرین کو لگتا ہے کہ خواتین کا معاملہ بالآخر ناکام ہو جائے گا۔

ہنٹر ٹیلر نے اپنا موقف پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن انھوں نے عدالت کے سامنے تصویر ہٹانے کے بدلے پیسے مانگنے کے الزامات سے انکار کر دیا۔ ہنٹر کا کہنا تھا کہ ویب سائٹ صرف لوگوں کو تصاویر پوسٹ کرنے کے لیے پلیٹ فارم دستیاب کرتی ہے، خود تصاویر پوسٹ نہیں کرتی۔

ٹیكسسن ڈاٹ کام کی کہانی کچھ مختلف ہے۔ اس معاملے میں متاثرہ خواتین تصاویر پوسٹ کرنے والے شخص اور ویب سائٹ کا مالک تمام ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں۔

مسئلے کا انسانی چہرہ

Image caption ایسی ویب سائٹیں چلانے والے دوسروں کی عریاں تصاویر شائع کرکے پیسہ کماتے ہیں

گذشتہ کئی سالوں میں ہولی ٹوپس جیسی بہت سی خواتین سامنے آئی ہیں جو انتقامی پورن کے بارے میں اپنی کہانی کھل کر بیان کر رہی ہیں۔

اس نے مسئلے کو ایک انسانی چہرہ دے دیا ہے اور اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ انتقامی پورن سے کیسے نمٹا جائے۔ امریکہ میں اس کا شکار بننے والی کئی شکار خواتین چاہتی ہیں کہ اسے ریاستی اور وفاقی سطح پر جرم بنا دیا جائے اور ویب سائٹ مالکان کو دی گئی چھوٹ چھین لی جائے۔

ہولی ٹوپس کہتی ہیں کہ ’ہمیں پیسہ نہیں چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ انھیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ انھیں سزا ملے تو وہ ایسا کرنے سے پہلے دو بار سوچیں گے اور باقی لوگوں کے لیے سبق بن جائیں گے۔‘

ان کی بات امریکی قانون سازوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔ حال ہی میں وسكانسن، نیویارک اور میری لینڈ میں انتقامی پورن کو جرم ماننے والے قانون پیش کیے گئے ہیں جب کہ کیلی فورنیا اور نیو جرسی میں یہ قانون بن گئے ہیں۔

تاہم کیلی فورنیا میں خود کھینچی گئی تصاویر اس قانون کے تحت نہیں آئیں گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ انتقامی پورن میں 80 فیصد تصاویر ایسی ہی ہوتی ہیں۔

اپنی بیٹی کی تصویر انتقامی پورن ویب سائٹ پر شائع ہونے کے بعد سخت قانون کے لیے مہم چلانے والی شارلٹ لاج کہتی ہیں کہ اس بارے میں ہم بہت کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

وہ کہتی ہیں ’یا تو ہم اسے بھول ہی جاتے یا جو ممکن تھا، اسے منظور کروا لیتے اور بعد میں ترمیم کرواتے۔ سیاست میں کبھی کبھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔‘

لیکن ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ معاملہ فوجداری قانون کے تحت آتا ہے؟

ہیوسٹن سے تعلق رکھنے والے وکیل مارک بینیٹ دلیل دیتے ہیں کہ انتقامی پورن غلط ضرور ہے لیکن پھر بھی یہ آئینی طور پر آزادیِ اظہار ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ہم برے لوگوں کے حقوق کی بھی اس لیے حفاظت کرتے ہیں تاکہ باقی تمام کے حقوق کو محفوظ رکھا جا سکے۔‘

’اگر ہم یہ کہیں گے کہ جس شخص نے تصاویر پوسٹ کی ہیں وہ برا انسان ہے تو ہم حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا حق دیں گے کہ کون برا ہے اور کون اچھا۔ ہم نہیں چاہتے کہ حکومتیں یہ طے کریں کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔

’تمام غلط کام جرم نہیں ہیں اور نہ ہی یہ جرم ہونے چاہییں۔‘

کیا برہنہ ہو جانا آزادیِ اظہار ہے؟

Image caption ہولی ٹوپس اپنی مہم کو آگے بڑھانے کے لیے ثابت قدم ہیں

قانون میں تبدیلی کے بعد سابق انتقامی پورن ویب سائٹ کے مالک ہنٹر مور نے یو ٹیوب ویڈیو کے ذریعے ناراضگی ظاہر کی۔انھوں نے کہا: ’وہ لڑکی رو رہی ہے کیونکہ اس نے اپنی عریاں تصاویر کسی بیوقوف کو بھیجی تھی جس نےانھیں انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دیا۔‘

انھوں نے کہا: ’آپ نے ان تصاویر کو محفوظ کیوں نہیں رکھا؟ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ جو خود کر رہے ہیں اس کی ذمہ داری لیں اور دوسروں پر انگلی اٹھانا بند کریں۔‘

انتقامی پورن کے بارے میں جاری بحث میں زور شور سے دی جانے والی دلیل یہ ہے کہ اگر آپ اپنی تصویر کو انٹرنیٹ پر نہیں دیکھنا چاہتے تو آپ ایسی تصاویر کھینچیے ہی نہ۔

شارلٹ اس کے جواب میں کہتی ہیں: ’لوگ اگر اپنی تصاویر کھینچنا چاہتے ہیں توانھیں اس کا حق ہے۔ 40 سال پہلے لوگ پولورائڈ پر اپنی تصاویر کھینچتے تھے۔ اگر کوئی ان کے گھر میں گھس کر تصاویر چرا لیتا تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ نے تصاویر کھینچی ہی کیوں۔ شکار کو ہی مجرم ٹھہرانا عجیب بات ہے۔ یہ ریپ کا شکار کو ہی مجرم قرار دینے جیسا ہی ہے۔‘

اگر ہولی ٹوپس دوبارہ ماضی میں جا سکیں تو کیا وہ اپنی تصویر نہیں کھینچیں گي؟

ہولی کہتی ہیں: ’کچھ نہیں بدلے گا۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ ہزاروں لوگوں نے اسے میری غلطی بتانے کی کوشش کی ہے لیکن میں ماننے کو تیار نہیں ہوں۔‘

انتقامی پورن کو جرم ثابت کرنے کا ریاستی وفاقی قانون بنانے کے لیے ہولی ٹوپس اور ان جیسی دیگر بدلے کی خاطر پورن شکار خواتین کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔

ان کی کامیابی یا ناکامی اس سوال پر بھی روشنی ڈالےگي کہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے ناقابلِ تصور نقصانات سامنے آ رہے ہیں، تو کیا اس ضمن میں قانون بدلا جائے یا پھر انسانی رویے؟

اسی بارے میں