ٹوئٹر: 24 گھنٹوں میں بلاکنگ پالیسی واپس

Image caption ٹوئٹر نے حال ہی میں ’رپورٹ ٹویٹ بٹن‘ متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے

ٹوئٹر نے اپنے صارفین کی جانب سے کی گئی تنقید کے نتیجے میں ’بلاک‘ کرنے سے متعلقہ نئی پالیسی ایک دن کے اندر ہی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

ان کالعدم شدہ تبدیلیوں کے نتیجے میں ایسے ٹوئٹر صارفین جنہیں کسی صارف نے بلاک کیا ہوگا پھر بھی وہ بلاک کرنے والے صارف کی تمام ٹوئٹس تک رسائی رکھے گا۔

اس کے نتیجے میں آن لائن بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے غصے کا اظہار کیا۔

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ وہ سابقہ قواعد کی جانب واپس جا رہے ہیں جس کے تحت صارفین ایک ایسے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو فالو نہیں کر سکتے تھے جس نے انہیں بلاک کر دیا ہو۔

ٹوئٹر پر بلاک کرنے کا طریقہ ایسے صارفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جو یا تو ٹرولنگ (بے جا لوگوں تو تنگ کرنا) کرتے ہیں یا دوسرے صارفین کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔

ٹوئٹر کے نائب صدر مائیکل سپی نے کہا ہے کہ ’ہم نے ان تبدیلیوں کو واپس لینے کا فیصلہ بہت سارے صارفین کی جانب سے ردِ عمل حاصل کرنے کے بعد کیا ہے۔ ہم ایسی کوئی تبدیلی متعارف نہیں کروانا چاہتے جس کی وجہ سے ہمارے صارفین اپنے آپ کو کم محفوظ تصور کریں۔‘

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ’ایسے تمام صارفین جنہیں آپ نے بلاک کیا ہوا ہے وہ بلاک ہی رہیں گے۔‘

ٹوئٹر پر حالیہ دنوں میں کئی اہم شخصیات کو دھمکیاں ملنے اور ٹرولنگ کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے دباؤ تھا کہ وہ اس کے سدِ باب کے لیے اقدامات کرے۔‘

ٹوئٹر نے حال ہی میں ’رپورٹ ٹویٹ بٹن‘ متعارف کروانے کا اعلان کیا تاکہ اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

سپی نے کہا کہ ’بعض صارفین بلاک کرنے کے بعد کے ردِ عمل کی وجہ سے ڈرتے ہیں جتنا کہ وہ بلاک کرنے سے پہلے کی گالیوں سے۔‘

ایسا دیکھنے میں آیا کہ ایک صارف کو بلاک کرنے کے نتیجے میں اس کے دوست احباب نے ردِ عمل کے طور بلاک کرنے والے کو نشانہ بنایا جس سے معاملات مزید خراب ہوئے۔

اسی بارے میں