’کیڑے مار ادویات دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں‘

Image caption یورپی یونین نے اپریل میں برطانیہ کی مخالفت کے باوجود کیڑے مار ادویات کے استعمال پر دو سال کی پابندی عائد کر دی تھی

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ کیڑے مار ادویات میں شامل کیمیائی مرکبات دماغ کے اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یورپئین فوڈ سیفٹی اتھارٹی (ای ایف ایس اے) نے تجویز دی ہے کہ کیمیائی مواد کے استعمال کی مجوزہ محفوظ سطح کو کم کرنا چاہیے۔

یورپی یونین کی یہ تجویز نومولود چوہوں پر کی جانے والی تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے جس کے مطابق نیو نِکوٹینوئڈ کیمیائی مرکبات نے چوہوں کے دماغ کو متاثر کیا تھا۔

یورپی یونین نے گذشتہ برس ایک کیڑے مارنے والی دوائی پر اس خطرے کی وجہ سے پابندی عائد کر دی تھی کہ اس سے مکھیوں کی آبادی کو خطرہ تھا۔

نیونکوٹینوئڈ کیڑے مار ادویات پودے کے پورے وجود میں سرایت کر جاتی ہیں۔

کیڑے مار ادویات گذشتہ دو عشروں کے دوران پوری دنیا میں بہت عام ہیں اور انھیں انسانوں اور ماحولیات کے لیے دوسری مرکبات کی نسبت کم خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم حالیہ دنوں میں کئی تحقیقی مقالہ جات میں کیڑے مار ادویات اور مکھیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی کے درمیان تعلق ظاہر ہوا ہے۔

یورپی یونین نے اپریل میں برطانیہ کی مخالفت کے باوجود کیڑے مار ادویات کے استعمال پر دو سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم اب ای ایف ایس اے نے ایک بیان میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نیونکوٹینوئڈ کیمیائی مرکبات انسانی کے اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ای ایف ایس اے نے تجویز دی ہے کہ کیمیائی مواد کے استعمال کی مجوزہ محفوظ سطح کو کم کرنا چاہیے۔

یورپی یونین کے کمیشن برائے صحت کے ترجمان فریڈرک وینسٹ کے مطابق وہ کیمیائی مرکبات استعمال کرنے والے کپمنیوں کو اس تحقیق پر تبصرہ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اصولاً دوسرا قدم ’حوالے کی قدر میں ترمیم‘ ہے جو آئندہ مارچ میں شروع ہو جائے گا۔