جوہری رساؤ روکنے کے لیے روبوٹ کا استعمال

امریکی محکمۂ دفاع نے جوہری تنصیبات میں حادثات کی صورت میں تابکار مادے کا رساؤ روکنے سمیت مرمت کے دیگر کاموں کے لیے روبوٹس کے استعمال کے تجربات کا فیصلہ کیا ہے۔

پیٹناگون اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے میامی کے قریب ٹیسٹ ڈارپا روبوٹکس چیلنج کا انعقاد کر رہا ہے جس میں سترہ کمپنیوں کے روبوٹ حصہ لیں گے۔

ورجینیا ٹیكس روبوٹکس اینڈ میكینیزم لیبارٹري اس مقابلے میں انسان جیسا پورے قد کے روبوٹ ’تھور‘ کو لے کر آئی ہے۔

کمپنی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈینس ہگ کہتے ہیں کہ ’یہ انسانیت کو بچانے والا منصوبہ ہے۔ اس طرح کے بڑی مقابلے سائنسی خیالات کو حقیقت بنانے میں مدد کرتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’فوكوشیما پلانٹ جیسے حادثے پھر ہوں گے اور اگر ہم ایسی تیاری نہیں کرتے تو ہم مشکلات کا شکار اور لاچار ہوں گے۔‘

جاپان میں بھی 2011 میں جوہری بجلی گھر کے حادثے کے بعد وہاں روبوٹس بھیجے گئے تھے لیکن انہوں نے صرف ویڈیو اور دیگر ڈیٹا ٹرانسفر کیا کیونکہ وہ مرمت کا کام نہیں کر سکتے تھے۔

اس کے برعکس پینٹاگون کے مقابلے میں شریک روبوٹس سے اس سے کہیں زیادہ کی امید کی جا رہی ہے۔

Image caption روبوٹس قریباً ایک سال کے بچے جتنے ہی موثر اور چلنے کے قابل ہیں

اس مقابلے میں روبوٹس کو آٹھ کام کرنے ہوں گے۔ انہیں كھمبوں کے ساتھ ساتھ گاڑی چلا کر جانا ہوگا، ایک ایسے علاقے سے نکلنا ہوگا جس کا راستہ دشوار گزار ہوگا، آٹھ فٹ اونچی سیڑھی پر چڑھنا ہوگا، راستہ روکنے والے ملبے کو ہٹانا ہو گا اور دروازے کھینچ کر کھولنا ہوں گے۔

اس کے علاوہ روبوٹس کو ایک بغیر تار والے ڈرل سے دیوار کو تكونا کاٹنا ہوگا، تین ایئر والوز بند کرنا ہوں گے جن میں ہر ایک مختلف سائز کے پہیوں سے بند ہوگا، ایک پائپ کو کھولنا ہوگا اور پھر اس کے نوزل کو دیوار سے لگے ایک کھونٹے سے كسنا ہوگا۔

مقابلے کے منتظمین مانتے ہیں کہ اس کارروائی کے دوران روبوٹس کو کچھ نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

ڈيارسي کے منیجر گل پریٹ کہتے ہیں،’ابھی روبوٹس قریباً ایک سال کے بچے جتنے ہی موثر اور چلنے کے قابل ہیں۔ اس لیے روبوٹ بہت آہستہ چلتے ہوئے لگیں گے۔‘

’آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ روبوٹس ابھی اس سطح پر خود ہی کام کرنے کے قابل نہیں ہیں جتنا ہم چاہتے ہیں لیکن ایک انسان انھیں آپریٹ کرے گا تو اس سے بہت فرق پڑے گا۔‘

اس مقابلے میں امریکی کمپنیوں کے علاوہ جنوبی کوریا، ہانگ کانگ، چین، جرمنی اور جاپان کے انجینئرز بھی شامل ہیں۔

Image caption ورجینیا ٹیكس اس مقابلے میں انسان جیسے پورے قد کے روبوٹ ’تھور‘ کو لے کر آئی ہے

ان میں سے زیادہ تر اپنی مشینیں لے کر آئے ہیں لیکن باقی بوسٹن ڈائنیمكس کے دو پاؤں والے روبوٹ اٹلس کو پروگرام کر رہے ہیں۔

اٹلس پر ہی کام کرنے والی میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم ائی ٹی) کی ٹیم کے پروفیسر سیتھ ٹیلر اس مقابلے کو ’گیم چینجر‘ قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں،’آپ کو یہاں کام حقیقی ماحول میں کرنے ہوں گے۔ باہر کھلے میں اور بغیر یہ جانے کہ آگے کس طرح کی ضرورت پڑے گی وہ بھی بہت خراب نیٹ ورک لنک کے ساتھ۔‘

سیتھ کے مطابق ’ایسے بہت سے مواقع آئیں گے جب انسان اور روبوٹس کے درمیان کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے انھیں خود ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

لیکن امریکی فوج کے ان تکنیکی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے سے سب مطمئن نہیں۔

روبوٹک اسلحہ پر کنٹرول کی بین الاقوامی کمیٹی کے شریک بانی پروفیسر نویل شاركي پوچھتے ہیں کہ ’جب دفاعی بجٹ اتنے دباؤ میں ہے تب اچانک ڈارپا لاکھوں ڈالر دفاعی روبوٹ کی ترقی پر کیوں خرچ کر رہا ہے؟‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ بہتر روبوٹ ہتھیار تیار کرنے کا طویل المدتی پروگرام ہے۔‘

اسی بارے میں