’دورانِ حمل خشک میوے کھانا خطرناک نہیں‘

Image caption ’خشک میوہ جات کے بارے میں یہ مطالعہ دلچسپ تھا لیکن اس کے نتائج حتمی نہیں‘

امریکہ میں ایک تازہ تحقیق کے مطابق ان بچوں کو خشک میوے سے الرجی کے امکانات کم ہوتے ہیں جن کی مائیں حمل کے دوران خشک میوہ کھاتی ہیں۔

یہ مطالعہ جاما پیڈییاٹرکس نامی جریدے میں شائع ہوا ہے جس میں آٹھ ہزار سے زائد بچوں اور ان کی ماؤں پر تحقیق کی گئی۔

یہ مطالعہ بوسٹن میں ڈانا فابر چلڈرن کینسر ادارے کے ڈاکٹر لنڈزے فریزر کی سربراہی میں کیا گیا جس میں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ ان بچوں کو خشک میوے سے الرجی کے امکانات کم ہوتے ہیں جن کی مائیں حمل کے دوران خشک میوہ کھاتی ہیں ۔

اس میں اخروٹ، بادام، پستہ، کاجو اور دیگر خشک میوہ جات شامل ہیں۔

لیکن بعض دیگر عوامل بھی ہیں جو اخذ کیے گیے نتیجے کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جن خواتین نے خشک میوہ کھایا تو ممکنہ طور ان کی باقی غذا بھی صحت کے موزوں تھی جن میں زیادہ تر سبزیاں شامل تھیں۔

امریکی محققین کا خیال ہے کہ حاملہ ماں کے مختلف قسم کی خوراک کھانے سے رحم کے اندر بچے میں قدرتی طور پر خاص قسم کی خوراک ہضم کرنے کی قوت پیدا ہوتی جاتی ہے۔

لیکن یہ تحقیق دوسرے مطالعوں سے متضاد ہے جن کے مطابق حاملہ عورت کے خشک میوہ کھانے سے بچوں پر یا تو کوئی اثر نہیں ہوتا یا پھر یہ ممکنہ طور پر خطرناک ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے ماں بننے والی خواتین کو خشک میوہ کھانے یا نہ کھانے کے حوالے سے کوئی حتمی مشورہ دینا مشکل ہو جاتا ہے اور صرف ان خواتین کو جنھیں خشک میوے سے الرجی ہو اسے نہ کھانے کی تاکید کی جا سکتی ہے۔

این ایس ایچ فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں بچوں کے الرجی کے ماہر ڈاکٹر نے کہا کہ یہ مطالعہ دلچسپ تھا لیکن اس کی تحقیقات حتمی نہیں تھیں۔

انھوں نے کہا کہ’جو چیزوں کو مزید پیچیدہ کر دیتی ہے وہ اس بات کے ٹھوس شواہد ہیں کہ بچے کو پیدائش کے بعد ہی خشک میوے سے الرجی ہوتی ہے اور یہ الرجی بچے کی جلد پر خشک میوے کے پروٹین سے پیدا ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’اس وجہ سے حاملہ خواتین کو اس بارے میں کوئی حتمی مشورہ نہیں دیا سکتا لیکن موجودہ اصولوں کے مطابق حمل کے دوران نہ تو خشک میوے زیادہ کھائے جائیں اور نہ ہی اس سے بچا جائے۔‘

اسی بارے میں