انٹارکٹکا: ’اب ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن ہو گا‘

Image caption روسی جہاز انٹارکٹکا میں فرانسیسی سٹیشن سے 100 ناٹیکل میل کی دوری پر پھنسا ہوا ہے

روس کے حکام کا کہنا ہے کہ قطب جنوبی کے علاقے میں برف میں پھنسے ہوئے روسی بحری جہاز پر سوار افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر سوار افراد کو موسم سازگار ہوتے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا جائے گا۔

روسی حکام نے اس بات کا اعلان اس وقت کیا ہے جب آسٹریلیا کا جہاز قطب جنوبی میں پھنسے جہاز تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

سائنسی مشن پر گامزن اکیڈیمیشن شوکالسکیے نامی بحری جہاز کرسمس کے دن سے انٹارکٹکا میں پھنسا ہوا ہے اور اب تک برف توڑنے والے تین بحری جہاز اس کی مدد کے لیے بھیجے گئے ہیں لیکن یہ تینوں مہمات ناکام رہی ہیں۔

آسٹریلیا کی میری ٹائم ایجنسی نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ’آئس بریکر‘ جہاز ارورا آسٹریلس نے جائے وقوعہ تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن موسم خراب ہونے کی وجہ سے اسے واپس آنا پڑا۔

میری ٹائم ایجنسی کے مطابق علاقے میں اس وقت برفانی بارشیں ہو رہی ہیں اور تاحال یہ واضح نہیں کہ آسٹریلوی جہاز کب تک روسی بحری جہاز تک پہنچ پائے گا۔

روسی بحری جہاز پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ علاقے میں تند و تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور حدِ بصارت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

اس سے قبل چینی اور فرانسیسی برف شکن جہاز بھی متاثرہ بحری جہاز تک پہنچنے کی ناکام کوششیں کر چکے ہیں۔

متاثرہ جہاز آسٹریلیشین انٹارکٹک سائنسی مہم میں شریک ہے اور اطلاعات کے مطابق اس پر 74 افراد موجود ہیں جن میں سائنسدان اور سیاح شامل ہیں۔

Image caption برف کی دبیز چادر تیز ہواؤں کے نتیجے میں وہاں پہنچی

یہ تحقیقی جہاز اس راستے پر اپنا سفر طے کر رہا ہے جس پر تقریباً ایک سو سال قبل آسٹریلوی مہم جُو ڈگلس موسن نے سفر کیا تھا۔

روسی جہاز انٹارکٹکا میں فرانسیسی سٹیشن سے 100 ناٹیکل میل کی دوری پر پھنسا ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ جہاز برف کی اس دبیز چادر کے درمیان پھنسا ہے جو تیز ہواؤں کے نتیجے میں وہاں پہنچی تھی۔

سائنسی اور تحقیقی ٹیم کے سربراہان کرس ٹرنی اور کرس فوگول کے مطابق شوکالسکیے جہاز میں غذا کافی مقدار میں موجود ہے اور اسے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

یہ جہاز وقتی طور پر پھنسا ہوا ہے تاہم سائنسدان اپنے تجربات میں مشغول ہیں۔ سائنسدان برف میں شگاف کے ذریعے درجۂ حرارت اور شوریت کی جانچ کر رہے ہیں۔

سائنس کے رضاکار شون بورکووک نے بی بی سی کو بتایا: ’یقینی طور پر ہم اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ہمیں بہترین روشنی دیکھنے کو ملی ہے اور موسم بھی بہت حد تک معتدل ہے۔ جہاز ٹھوس نظر آ رہا ہے اور میرے خیال میں ہم اچھی حالت میں رہیں گے۔‘

عصر حاضر کے اس آسٹریلیشین انٹارکٹک مہم کا مقصد ایسی پیمائشوں کی دوبارہ جانچ کرنی ہے جسے تقریباً ایک صدی قبل موسن مہم کے دوران کیا گیا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ ان راستوں اور علاقوں میں گذشتہ ایک صدی میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں