انٹارکٹکا: مسافروں کے لیے امدادی کارروائی شروع

Image caption آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی کے ریسکیو کورڈینیشن سنٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اکیڈیمیشن شوکالسکیے کے مسافروں کے لیے آج امدادی کارروائی کے پلان پر عمل نہیں ہو سکے گا

آسٹریلیا کے حکام کا کہنا ہے کہ انٹارکٹکا میں سمندری موسم کے باعث برف میں پھنسے جہاز سے مسافروں کے لیے فضائی امدادی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ایک چینی ہیلی کاپٹر جہاز کے قریب پہنچا ہے اور لینڈنگ کے مقام کا جائزہ لے رہا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ ہیلی کاپٹر ایک گھنٹے کے اندر واپس آئے گا اور روسی جہاز سے مسافروں کو واپس لانا شروع کر دے گا۔

انٹارکٹکا کی برف میں پھنسا جہاز، تصاویر

منصوبے کے تحت سائنسی مشن پر گامزن اکیڈیمیشن شوکالسکیے نامی روسی بحری جہاز پر سوار افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے چینی جہاز شوے لانگ پر لایا جائے گا۔ موسمی حالات اور چینی جہاز کے خود برف میں پھنس جانے کے بعد اس کا امکان کم ہو گیا تھا تاہم اب امدادی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔

اکیڈیمیشن شوکالسکیے پر 74 افراد موجود ہیں جن میں سائنس دان اور سیاح شامل ہیں۔ یہ جہاز کرسمس سے ایک رات قبل سے برف میں پھنسا ہوا ہے۔ اب تک برف توڑنے والے تین بحری جہاز اس کی مدد کے لیے بھیجے گئے ہیں لیکن یہ تینوں مہمات ناکام رہی ہیں۔

ان کے بعد بنائے گئے منصوبے کے تحت مسافروں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بچانے کا منصوبہ ہے۔ 74 میں سے 52 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جایا جائے گا اور منصوبے کے تحت جہاز کے عملے کو جہاز ہی پر رکنا تھا۔ چینی جہاز کے ہیلی کاپٹر پر ایک وقت میں 12 افراد سفر کر سکتے ہیں۔ چینی جہاز کے پھنس جانے کے بعد پلان یہ ہے کہ مسافروں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے چینی جہاز پر لایا جائے جہاں سے انھیں برف توڑنے والے آسٹریلوی بجری جہاز ارورا آسٹریلس پر منتقل کر دیا جائے۔

اس سے پہلے آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی کے ریسکیو کورڈینیشن سنٹر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اکیڈیمیشن شوکالسکیے کے مسافروں کے لیے جمعرات کو امدادی کارروائی کے پلان پر عمل نہیں ہو سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سمندری برف کی صورتِ حال کی وجہ سے برف توڑنے والا آسٹریلوی بجری جہاز ارورا آسٹریلس کی بارج چینی جہاز تک نہیں پہنچ سکے گی۔ اس بارج کی ضرورت اس لیے ہے کہ ارورا آسٹریلس پر ہیلی کاپٹر اتر نہیں سکتا اور اس کے قریب ہیلی کاپٹر کو اتارنا انتہائی خطرناک ہے۔‘

’ہمارے لیے بہترین اور محفوظ ترین منصوبہ تو یہ تھا کہ ہم ایک ہی مرحلے میں مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیتے مگر مختلف مسائل کی وجہ سے ہمیں مرحلہ وار کارروائی کرنا پڑ رہی ہے۔‘

صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے روسی جہاز سے چینی جہاز تک پہنچنے کا مرحلہ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

روسی جہاز انٹارکٹکا میں فرانسیسی سٹیشن سے 100 ناٹیکل میل کی دوری پر پھنسا ہوا ہے۔ متاثرہ جہاز آسٹریلیشین انٹارکٹک سائنسی مہم میں شریک ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ جہاز برف کی اس موٹی چادر کے درمیان پھنس گیا ہے جو تیز ہواؤں کے نتیجے میں وہاں پہنچی تھی۔

سائنسی اور تحقیقی ٹیم کے سربراہان کرس ٹرنی اور کرس فوگول کے مطابق شوکالسکیے جہاز میں غذا کافی مقدار میں موجود ہے اور مسافروں کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔

اگرچہ جہاز وقتی طور پر پھنسا ہوا ہے تاہم سائنسدان اپنے تجربات میں مشغول ہیں۔ وہ برف میں شگاف کے ذریعے درجۂ حرارت اور شوریت کی جانچ کر رہے ہیں۔

سائنس کے رضاکار شون بورکووک نے بی بی سی کو بتایا: ’یقینی طور پر ہم اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ہمیں بہترین روشنی دیکھنے کو ملی ہے اور موسم بھی بہت حد تک معتدل ہے۔ جہاز ٹھوس نظر آ رہا ہے اور میرے خیال میں ہم اچھی حالت میں رہیں گے۔‘

عصر حاضر کے اس آسٹریلیشین انٹارکٹک مہم کا مقصد ایسی پیمائشوں کی دوبارہ جانچ کرنی ہے جسے تقریباً ایک صدی قبل موسن مہم کے دوران کیا گیا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ ان راستوں اور علاقوں میں گذشتہ ایک صدی میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں