قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع کے نظام کا تجربہ

Image caption کسی بھی قدرتی آفت سے پہلے کے منٹ حتٰی کے سیکنڈز بھی اہم ہوتے ہیں

امریکہ میں ایک ایسے نظام کا تجربہ کیا جا رہا ہے جو زلزلے، سیلاب اور سونامی جیسی قدرتی آفات کی پیشگی تنبیہہ جاری کر سکے۔

سائنسدان اس مقصد کے لیے جی پی ایس ٹیکنالوجی اور دیگر سینسر استعمال کر رہے ہیں تاکہ آنے والی قدرتی آفات کے خطرے کی نشاندہی کی جاسکے۔

یہ نظام جنوبی کیلیفورنیا میں نصب کیا گیا ہے جہاں سائسندانوں کو یہ پہلے ہی سیلابی ریلیوں سے خبردار کر چکا ہے۔

سکرپس انسٹیٹیوٹ آف اوشن گرافی کے ڈاکٹر یہودہ بوک کا کہنا ہےکہ ’اس سے عوام کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔‘

کسی بھی قدرتی آفت سے پہلے کے منٹ حتٰی کے سیکنڈز بھی اہم ہوتے ہیں۔ پیشگی تنبیہہ کے نظام سے ہنگامی خدمات کے اداروں کی تیاری اور ردعمل زیادہ موثر جائے گا اور یہ عوام کو اہم معلومات مہیا کر سکتے ہیں۔

کیلیفورنیا میں ماہرین اس نظام کے ایک نمونے سے خطرات کی اقسام کی جانچ کر رہے ہیں۔

یہ نظام پہلے سے موجود جی پی ایس نیٹ ورک پر قائم کیا گیا ہے جو سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی زمینی حرکت کی تفصیلی پیمائش حاصل کرتا ہے۔

اس میں زلزلے سے خبردار کرنے والے سینسرز اور کچھ دیگر آلات نصب کیے گئے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر بوک کہتے ہیں ’جی پی ایس اور دیگر سینسرز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا یکجا کر کے ہم زلزلے اور دوسرے واقعات کے دوران سرکاؤ کی پیمائش کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہ نظام کسی بڑے زلزلے سے پہلے آنے والے جھٹکوں کی نشاندہی کر سکتا ہے اور اس کی شدت کا صحیح اندازہ لگانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا سکتا ہے کہ آیا اس کے نتیجے میں سونامی کا خطرہ ہے یا نہیں۔

جی پی ایس سینسرز اور موسمیاتی آلات ماہرین کو ہوا میں نمی کے تناسب کی جانچ میں بھی مدد دیتے ہیں۔

ناسا کی جیٹ پرپلژن لیبارٹری کی ڈاکٹر اینجلین مورے کا کہنا ہے کہ ’یہ شاید حیران کن ہو کہ ہم موسمیاتی خطرات کی جانچنے کے لیے جی پی ایس استعمال کر رہے ہیں لیکن جی پی ایس ایک موسمیاتی آلہ ہی ہے۔‘

ایک تجربے کے دوران اس نظام کی مدد سے اچانک آنے والے سیلابوں کی بروقت اطلاع میں مدد ملی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سستی ہے اور یہ نظام پوری دنیا میں پھیلایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں