سؤر کے پیٹ میں انسانی اعضا اگانے کا اچھوتا خیال

Image caption سؤر نمبر 29 سفید نسل کا سؤر ہے اور اس کے جسم کے اندر ایک سیاہ سؤر کا لبلبہ اگایا گیا ہے

میں جس آپریشن تھیٹر میں سرجن اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ موجود ہوں، وہ کسی ہسپتال میں نہیں بلکہ جاپان کے دیہی علاقے میں ایک زرعی فارم میں واقع ہے اور آپریشن ٹیبل پر موجود مریضہ ایک چھ ماہ کی مادہ سؤر ہے۔

کمرے میں موجود سرجن پروفیسر ناگاشیما احتیاط سے اس کا پیٹ کاٹ کر رحم باہر نکالتے ہیں اور اس میں سرنج کی مدد سے 40 جنین (ایمبریو) داخل کرتے ہیں۔

یہ بےہوش مادہ سؤر ’سروگیٹ مدر‘ یا کرائے کی ماں بننے والی ہے اور اس میں داخل کیے جانے والے ایمبریو بہت خاص ہیں کیونکہ یہ ’دوغلے‘ ہیں، یعنی ان میں دو مختلف جانوروں کا جینیاتی مواد شامل ہے۔

پروفیسر ناگاشیما مجھے قریب ہی واقع ایک عمارت میں لے جاتے ہیں لیکن وہاں جانے کے لیے مجھے حفاظتی لباس پہننا پڑتا ہے لیکن یہ لباس میرے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ اس کا مقصد اس عمارت کے رہائشیوں یعنی دوغلے سؤروں کا بچاؤ ہے۔

یہیں مجھے سؤر نمبر 29 کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اس سفید سؤر کے اندر ایک سیاہ سؤر کا لبلبہ لگایا گیا ہے۔

یہ کیسے ممکن ہوا؟ اس کے لیے پروفیسر ناگاشیما کے بقول سفید سؤر کے ایمبریو میں سیاہ سؤر کا لبلبہ بنانے والے جین ڈالے گئے اور وہ جین جن کے اندر اس کے اپنے لبلبے کی تشکیل کی ہدایات موجود تھیں، انھیں بند کر دیا گیا۔ لبلبہ بنانے والے یہ جین سٹیم سیل سے حاصل کیے گئے تھے۔

لیکن یہ صرف پہلا قدم ہے۔

Image caption پروفیسر ناگاشیما جن سؤروں کا آپریشن کر رہے ہیں ان کے ایمبریوز دوغلے ہیں

ٹوکیو یونیورسٹی کی تجربہ گاہ میں پروفیسر ہیرو ناکوچی اس سے آگے بڑھ رہے ہیں جو انتہائی حیرت انگیز بات ہے۔

پروفیسر ناکوچی نے ایک بالغ بھورے چوہے کی جلد کے خلیے لیے، پھر انھیں جینز میں تبدیلی کر کے انھیں ’انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ سٹیم سیلز‘ یا ’آئی پی ایس‘ خلیے بنا دیا۔ اب یہ خلیے سٹیم سیل کی مانند اس جانور کے جسم کے کسی بھی حصے کی تشکیل میں کام آ سکتے ہیں۔

آئی پی ایس خلیے پہلی مرتبہ 2006 میں جاپانی طبی محقق ڈاکٹر شنیا یاماناکا نے تخلیق کیے تھے اور اس پر انھیں 2012 میں نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ یہ سب اتنا اہم کیوں ہے؟

اس تحقیق کا حتمی مقصد سؤروں کے اندر انسانی اعضا اگانا ہے۔ یہ خود اپنی جگہ سائنس کا بڑا کارنامہ ہوگا۔ لیکن پروفیسر ناکوچی اس سے بھی آگے جانے کے لیے کوشاں ہیں۔

وہ ایسی تکنیک کی تیاری کے لیے کوشاں ہیں جس میں انسانی جلد کے خلیوں کو آئی پی ایس بنایا جا سکے، جس کے بعد انھیں سؤر کے ایمبریو میں داخل کیا جا سکے گا۔

پروفیسر ناکوچی کو امید ہے کہ اس عمل سے سؤر کے جسم کے اندر انسانی لبلبہ، گردہ یا جگر یا پھر دل تک بن سکے گا اور یہی نہیں بلکہ یہ عضو جینیاتی طور پر اسی فرد سے مماثلت رکھے گا جس کی جلد کے خلیے استعمال کیے گئے تھے۔

Image caption پروفیسر ناکوچی سفید چوہے میں بھورے چوہے کا پتّہ اگانے کا کامیاب تجربہ کر چکے ہیں

ضرورت مند مریض سے جینیاتی طور پر مماثلت رکھنے والا انسانی عضو اگانا طبّی سائنس کے حتمی عزائم میں سے ایک ہے کیونکہ اس صورت میں نہ صرف خراب عضو والے مریضوں کا اس کی تبدیلی کے لیے انتظار ختم ہو جائے گا بلکہ جسم کے کسی دوسرے فرد کے عضو کو قبول نہ کرنے جیسی مشکلات بھی پیدا نہیں ہوں گی۔

تاہم اس سلسلے میں ابھی کئی اہم رکاوٹیں حائل ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں اور سؤروں کا جینیاتی تعلق بڑے دور کا ہے۔ سفید سؤر میں سیاہ سؤر کا لبلبہ اگانا اور بات ہے لیکن اس میں انسانی لبلبہ اگانا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔

پروفیسر ناکوچی کو یقین ہے کہ ایسا ممکن ہے اور اس کام میں کم از کم پانچ برس کا عرصہ لگ سکتا ہے لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عرصہ اس سے کہیں زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔

ایک اور مسئلہ اس عمل کی منظوری حاصل کرنا ہے۔ جاپان میں انسان اور جانور کے اعضا کے اتصال کی اجازت نہیں۔ پروفیسر ناکوچی اس سلسلے میں قانون میں تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں لیکن اگر یہ ممکن نہ ہوا تو انھیں باقی تحقیق کے لیے امریکہ کا رخ کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ نئی سائنسی تحقیق کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھتی رہی ہے۔ انھوں نے آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کی مثال دی اور کہا کہ 1970 کی دہائی میں جب برطانیہ میں بانجھ پن کا یہ طریقۂ علاج دریافت ہوا تھا تو اس کی بہت مخالفت ہوئی تھی، لیکن آج یہ دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے اور کوئی اسے عجیب یا غیر اخلاقی نہیں سمجھتا۔

اس معاملے پر اخلاقی بحث جو بھی ہو دنیا میں نئے گردے یا جگر کے منتظر لاکھوں افراد کے لیے اعضا اگانے کا خیال بے حد خوش کن ہے۔

اسی بارے میں