آسٹریلیا: شارک مچھلیوں کو مارنے کے خلاف احتجاج

Image caption ویسٹرن آسٹریلیا کے ساحلوں پر پچھلے تین برسوں میں شارکس انسانوں پر سات جان لیوا حملے کر چکی ہیں

آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں ہزاروں افراد نے شارک مچھلیوں کو پکڑنے اور مارنے کے حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

آسٹریلوی ریاست مغربی آسٹریلیا کی حکومت کے مطابق منصوبے کا مقصد گریٹ وائٹ، بُل اور ٹائیگر شارک مچھلیوں کو مار کر خطے کے ساحلوں کو انسانوں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔

سنیچر کو پرتھ کے ساحل پر ہزاروں افراد نے شارک کے حق میں مظاہرہ کیا اور اس میں سرفر یعنی موج سوار بھی شامل تھے۔

مظاہرین نے حکومت کے اس منصوبے پر غصے کا اظہار کیا جس کے تحت ماہی گیروں کو اجازت دی جائے گی کہ وہ تین میٹر سے زیادہ لمبی شارکس کو پکڑیں، گولی مار کے ہلاک کریں اور پھر واپس سمندر میں پھینک دیں۔

ویسٹرن آسٹریلیا کے ساحلوں پر پچھلے تین برسوں میں شارکس انسانوں پر سات جان لیوا حملے کر چکی ہیں۔

حکومت نے شارکس کو مارنے کی اس مہم میں حصہ لینے والے ماہی گیروں کو معاوضہ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے مگر بقائے ماحول کے لیے کام کرنے والے کارکن حکومت کے اس منصوبے سے خوش نہیں ہیں۔

شارک مچھلیوں کی تعداد میں کمی کے اس منصوبے کے خلاف آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر میلبرن میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس شارک مار مہم سے سمندر کے فطری نظام کو نقصان پہنچے گا کیونکہ شارکس کے بغیر انسانیت کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا کیونکہ اُن کا وجود ایکو سسٹم میں توازن کے لیے ضروری ہے اور اس کے لیے سمندر میں رہنے والی ہر جاندار مخلوق بہت اہم ہے۔

مظاہرے میں شامل ایک شخص کے مطابق’بڑی شارکس کو نشانہ بنایا جائے گا جن میں ناپیدی کے خطرے سے دوچار گریٹ وائٹ شارکس بھی شامل ہوں گی اور ہمیں یقین ہے کہ یہ 2014 ہے، ہمارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ ہم انتقام کی خاطر جنگلی حیات کو نہ ماریں۔ ہمیں سائنسی علم کو استعمال کرنے اور اُس سے کام لینے کی ضرورت ہے جو دستیاب بھی ہے اور ان مخلوقات کو مارنے کے بجائے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اُن کے ساتھ کیسے زندہ رہا جائے۔‘

ریاست ویسٹرن آسٹریلیا کے حکام کا اصرار ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد ہوگا کیونکہ ان کے بقول لوگوں کا تحفظ بہرحال مقدم ہے اور اس مہم کا آغاز اسی مہینے کے اواخر میں کیا جائے گا۔

مگر مظاہرین نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو وہ اسے روکنے کے لیے مزید اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ بعض مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ وہ سمندر میں جا کے ماہی گیروں کو ان مچھلیوں کو ہلاک کرنے سے روکیں گے۔

اسی بارے میں