زخمی دل کو سیکنڈوں میں جوڑنے والی گوند

فائل فوٹو، طبی گوند
Image caption یہ گوند دو برسوں میں انسانی استعمال کے لیے دستیاب ہو گی

سائنس دانوں نے میدان جنگ میں لگنے والے زخموں سے خون کے بہنے کو فوری طور پر روکنے اور دل کے آپریشن کے دوران دل کے حصوں کو جوڑنے میں مددگار ’سپر گوند‘ تیار کی ہے۔

سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق طبی سپرگوند مستقبل میں دل کی شریانوں کی سرجری کے دوران دل کو ٹانکے لگانے کا متبادل ثابت ہو گی۔

اس گوند کے سؤروں پر کیے جانے والے تجربات میں دل کے زخم سکینڈوں میں بھر گئے۔ یہ انسانی استعمال کے لیے دو سال میں دستیاب ہو گی۔

جِلد کے لیے تیار کی جانے والی یہ چپکنے والی گوند زخم کے دو حصوں کو آپس میں جوڑنے اور بعد میں ان کے مندمل ہونے میں مدد دے گی۔

طبی عملہ زخموں کو ٹانکوں کی مدد سے سینے یا سٹیپل کے ذریعے جوڑنے کے روایتی طریقے کی بجائے اس گوند کو استعمال کر سکے گا، تاہم فی الحال یہ گوند اتنی پائیدار ثابت نہیں ہوئی کہ دل کی بڑی شریانوں اور دل کے خانوں کے اندر بھی مضبوطی سے چپکی رہ سکے۔

یہ واٹر پروف گوند ہاورڈ میڈیکل سکول نے تیار کی ہے اور جب اس پر بالائے بنفشی روشنی پھینکی جائے تو یہ سکینڈوں میں چپک جاتی ہے۔

اس تحقیق میں شامل ویمن ہسپتال بوسٹن کے پروفیسر جیفری کیپ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کو کھلے زخموں، متحرک ٹشوز، مثلاً خون کی شریانوں، دل اور اس کے ساتھ انتڑیوں کو بند کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

’ہمارے خیال میں ہماری گوند ممکنہ طور پر ٹانکوں کی جگہ لے لے گی، اور اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کم از کم جسم کے اندر کیے جانے والے آپریشنوں میں اس کے استعمال کا راستہ کھل جائے گا۔

محققین نے اس گوند کے تجربات سؤروں کے دل کی سرجری کے دوران کیے ہیں اور نتائج سے ثابت ہوا کہ یہ موثر طریقے سے جانوروں کے دل کے عارضے ختم کر سکتی ہے۔

اس گوند کو انسانی دل کی سرجری کے دوران استعمال کرنے کے سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی سرجیکل گوند کسی حادثے میں آنے والے شدید زخموں کو تیزی سے بند کرنے میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر سنجے تھکرار کے مطابق: ’دل اور خون کی رگوں کا نظام مسلسل متحرک رہتا ہے، جس میں خون کی گردش مسلسل جاری رہتی ہے اور اس صورتِ حال میں موجودہ گوندیں کام نہیں کرتیں۔

’اب لگتا ہے کہ محققین نے ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک جدید طریقہ دریافت کر لیا ہے اور خاص کر اس کو کم گہرے آپریشنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں