فیس بک پر ’موت‘

Image caption اس صلیب پر لکھا ہے ’کگامی مر گیا‘ مگر جلد ہی یہ افواہ درست ثابت نہیں ہوئی

جمعے کی صبح کئی گھنٹے تک جمہوریہ کانگو کے شہر میں یہ افواہ گردش کرتی رہی کہ روانڈا کے صدر پال کگامی ہلاک ہو گئے ہیں۔

بظاہر لگتا ہے کہ یہ افواہ فیس بک پر ایک جعلی پوسٹ سے شروع ہوئی اور جنگل میں آگ کی طرح پھیلی جس پرجشن کے مناظر دیکھے گئے۔

اس افواہ کے نتیجے میں سینکڑوں افراد نے جشن منانا شروع کیا اور اس مرکزی شاہراہ پر مارچ کرنا شروع کیا جو روانڈا کی سرحد کی جانب جاتی ہے۔

تاہم آخر میں یہ افواہ جھوٹی ثابت ہوئی مگر اس دوران ان جشن منانے والوں نے ایک تابوت اور صلیب بھی اٹھائی۔

اسی طرح کے مناظر کی اطلاعات کانگو کے دوسرے شہروں سے بھی موصول ہوئی ہیں۔

ان افواہوں کا جواب روانڈا کی حکومت نے جلد ہی ٹوئٹر کے ذریعے دیا اور اس خبر کی تردید کی۔

روانڈا کے وزیراعظم نے ٹویٹ کی کہ یہ سب ’فضول‘ ہے اور صدر کگامی کے اعلیٰ سطحی مشیر نے اسے ’خرافات‘ قرار دیا۔

اس کے بعد صدارتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے صدر کگامی کی امریکہ کی یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے آئے ہوئے طلبا سے ملاقات کی تصویر ٹویٹ کی گئی جس میں صدر طلبا سے ہاتھ ملاتے دکھائی دیے۔

Image caption صدر کگامی اور ان کے حکام نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس افواہ کی تردید کی

یونیورسٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ملاقات ہوئی اور یہ تصویر حقیقی ہے۔

اگر صدر کگامی زندہ ہیں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہیں تو یہ افواہ کہاں سے شروع ہوئی؟

گوما کے شہریوں سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ افواہ فیس بک سے شروع ہوئی جہاں یہ خبر ایک مزاحیہ سوانحی خاکے لکھنے والی ویب سائٹ سے اٹھائی گئی۔

اس فیس بک پوسٹ کو شائع کر کے لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔

کرسٹوف ووگل جو ایک آزاد تجزیہ کار ہیں اور گوما میں رہتے ہیں کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے سب سے پہلے شور کی آوازیں دس بجے کی قریب سنیں اور دیکھا کہ ایک فیس بک کی پوسٹ کی کاپیاں ایک کافی شاپ پر لوگوں میں تقسیم کی جا رہیں تھی۔‘

کرسٹوف کے مطابق ’اس کے بعد سے صورتحال تیزی سے بدلی اور آدھے گھنٹے میں ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہو گیا اور اسی طرح سچی یا جھوٹی خبریں یہاں پھیلتی ہیں۔‘

اسی بارے میں