شراب کئی صدیوں تک دوا سمجھی جاتی رہی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دواؤں میں نشہ آور چیزوں کا استعمال زمانے سے چلا آ رہا ہے

سینکڑوں سال سے برطانوی طب کی تاریخ میں دوا کی گولیوں، شربتوں یا معجون میں الکوحل (شراب) کا مخصوص مقام رہا ہے۔

کبھی طاعون سے نمٹنے کے لیے ’جن‘ کی ایک بوند لینے کی صلاح دی جاتی تھی، تو کبھی جسم کا فساد دور کرنے اور صفائی کے لیے’وائن‘ سے غرارے کرنے اور کبھی کڑوے پودے ’افسنتین‘ کے گھونٹ کے ذریعہ پیٹ میں موجود کیڑے مارنے کی صلاح دی جاتی تھی۔

تاہم اب سب کچھ بدل چکا ہے۔ جوں جوں الکوحل کے، سماج اور لوگوں پر برے اثرات اور نقصانات کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ ہوا ہے طبی نسخوں میں اس کی جگہ کم ہونے لگی یہاں تک کہ اس سے دور رہنے اور اس کے محتاط استعمال کی صلاح دی جانے لگی ہے۔

لندن میں رائل کالج آف فیزيشيئنز کی ایک نمائش کے ذریعے اس کے استعمال اور ماضی میں علمِ طب سے وابستہ لوگوں کی جانب سے مہلک اور غلط استعمال کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

آج اس کے متعلق زیادہ نگرانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

نمائش میں چمڑے میں مجلد کئی کتابوں میں سے ایک 13 ویں صدی کے برطانوی فلسفی اور مصنف روجر بیکن کی کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Wellcome Library
Image caption 19 ویں صدی تک شراب کے برے اثرات کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہو چکا تھا

سنہ 1683 میں شائع اس ترجمے کے مطابق بیکن کا مشورہ تھا کہ ’شراب معدے کو درست رکھتی ہے، جسم میں قدرتی گرمی برقرار رکھتی ہے، ہاضمے کو درست رکھنے میں مددگار ہے، جسم کو فساد سے محفوظ رکھتی ہے اور خون بننے تک کھانے کو محفوظ رکھتی ہے۔‘

مگر وہ ضرورت سے زیادہ مقدار میں ایتھنول کے استعمال کے خطرے سے بھی واقف تھے۔ ’اگر آپ اسے زیادہ مقدار میں پیتے ہیں تو یہ بہت نقصان دہ ثابت ہوگا کیونکہ یہ انسان کے شعور پر اثرانداز ہوگا، دماغ کو متاثر کرے گا۔۔۔ اعضاء میں ارتعاش اور آنکھوں میں دھندھلاپن لے آئے گا۔‘

16 ویں اور 18 ویں صدی کی ہاتھوں سے لکھی گھریلو خوان یا طعام کی کتابوں میں عام طور پر کھانے پکانے کے طریقوں کے ساتھ ساتھ ’شراب‘ سے بنی چیزوں کا بھی ذکر ہوا کرتا تھا۔

17 ویں صدی کے ایک باشعور صاحب خانہ کی صلاح تھی، ’طاعون سے نمٹنے کے لیے شراب بہترین مشروب ہے۔ اس میں تیز پات اور دو پنٹ (تقریبا تین پاؤ) شراب‘ شامل تھی۔ آج برطانیہ میں روزانہ شراب پینے کی مجوزہ حد سے یہ کہیں زیادہ ہے۔

برطانیہ میں الکوحل ریسرچ کے ڈاکٹر جیمز نكلس کے مطابق 18 ویں صدی تک ’جن‘ جیسی شراب کو لوگوں میں بڑھتے نشے، غربت اور جرم کے کے اسباب کے طور پر لیا جانے لگا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROYAL PHARMACEUTICAL SOCIETY
Image caption نمائش میں بچوں کو آسانی سے دانت آنے کی دوا کی شیشی بھی موجود ہے

سنہ 1725 میں رائل کالج آف فزيشيئنز نے ایک درخواست میں شراب کے بڑھتے استعمال کے ’مہلک‘ اثرات پر تشویش ظاہر کی تھی۔

شراب اور بیئر کے مقابلے ڈسٹیلیشن کے طریقوں پر جوں جوں قانون کی گرفت کمزور ہوئی پورے انگلینڈ میں ’جن‘ کے تئيں دیوانگی بڑھنے لگی۔ اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ شراب وسیع آبادی کو دستیاب ہونے لگی۔

لندن اسکول آف ہائیجن اینڈ ٹراپیكل میڈیسن کی ڈاکٹر ورجینیا بیرج کے مطابق 19 ویں صدی تک الکوحل کو سماج کے ایک بڑے مسئلے کو طور دیکھا جانے لگا تھا۔

جوں جوں برطانیہ میں صنعت کاری اور شہریت بڑھی اسے زیادہ مہارت اور وقت کے پابند مزدوروں کی ضرورت ہونے لگی اور شراب سے پرہیز کو خصوصیت میں شمار کیا جانے لگا۔

پہلے احتیاط کا مطالبہ شروع ہوا پھر بعض مخصوص مشروبات پر پابندی کا مشورہ دیا گیا مگر وقت کے ساتھ ان پر مکمل طور پر پابندی کا مطالبہ شروع ہو گيا اور 19 ویں صدی کے وسط تک معالج خود ہی ان پرہیزی تحریکوں میں شامل ہونے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption الکحل کم سے کم 40 شدید میڈیکل حالات کے لیے ذمہ دار ہے، جن میں لیور (جگر) کی بیماری اور کینسر شامل ہیں اور برطانیہ میں موت کی یہ بڑی وجہ بھی ہے ، جسے روکا جا سکتا ہے

سنہ 1871 میں برطانوی میڈیکل جرنل میں شائع برطانوی میڈیکل ٹیمپرینس سوسائٹی کے ایک بیان میں کہا گیا: ’ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ الکوحل کے بے جا استعمال کی تجاویز نے۔۔۔بہت سے معاملوں میں غیر متوازن عادات کو فروغ دیا ہے۔ ہم اگر چہ الکوحل کے استعمال پر پوری پابندی نہیں لگا سکے ہیں لیکن بعض مخصوص بیماریوں کے معاملے میں جہاں الکوحل کا استعمال ضروری ہے وہاں بھی ہمیں یقین ہے کہ کوئی بھی میڈیکل پریكٹشنر انتہائی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ہی اس کی تجویز دے گا۔‘

نمائش میں سب سے جدید چیز ایٹكسن انفینٹس پریزرویٹیو کی ایک بوتل ہے، جسے سنہ 1919-1941 کے درمیان بچوں کے دانت نکلنے کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس کی پیکیجنگ اس طرح کی گئی تھی جس سے والدین کو یہ احساس ہو کہ اس میں کوئی نشہ آور چیز نہیں حالانکہ اس میں الکوحل کی مقدار 50 فیصد ہوتی تھی۔

گذشتہ چند برسوں سے رائل کالج آف فزیشيئنز نے الکوحل کی وجہ سے صحت خراب ہونے کے بارے میں بیداری پھیلانے کا کام شروع کیا ہے۔

کالج کے اس سلسلے میں کئی منصوبہ ہے جس میں برطانیہ میں الکوحل کی فی یونٹ کھپت پر 50 پینس اور تشہیر پر سخت پابندی عائد کرنا شامل ہے۔

کالج کا کہنا ہے: ’الکوحل کم سے کم 40 شدید بیماریوں کے لیے ذمہ دار ہے، جن میں جگر کی بیماری اور کینسر شامل ہیں اور برطانیہ میں موت کی یہ بڑی وجہ بھی ہے ، جسے روکا جا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں