انٹرنیٹ پر تیز ترین رفتار سے ڈیٹا منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ ٹیسٹ مرکزی لندن میں بی ٹی ٹاور اور اپسوِچ کے درمیان 410 کلو میٹر لنک پر کیا گیا

لندن میں ایک ٹیسٹ کے دوران براڈ بینڈ پر تیز ترین رفتار سے ڈیٹا منتقل کیا گیا جس سے موجودہ انفراسٹرکچر کے ذریعے ڈیٹا کو مزید موثر انداز میں منتقل کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

الکاٹیل لیوسنٹ اور بی ٹی نے کہا کہ ان کے مشترکہ ٹیسٹ کے دوران ڈیڑھ ٹیرا بائٹس کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کیا گیا جو کہ 44 ان کمپریسڈ ہائی ڈیفینیشن فلموں کو ایک سیکنڈ میں منتقل کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ ٹیسٹ مرکزی لندن میں بی ٹی ٹاور اور اپسوِچ کے درمیان 410 کلو میٹر لنک پر کیا گیا۔ تاہم صارفین تک ان کے ثمرات پہنچنے میں ابھی چند سال لگیں گے۔

الکاٹیل لیوسنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ بینڈ وِڈتھ کی مانگ میں سالانہ 35 فیصد اضافہ ہوتا ہے اور آئی ایس پیز پر ڈیٹا منتقل کرنے کے تیز ترین طریقے ڈھونڈنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، خاص کر بڑے ڈیٹا کی آن لائن خدمات کی شہرت میں اضافے کی وجہ سے، مثال کے طور پر فلم دکھانے والی ویب سائٹ نیٹ فلکس پر۔

انٹرنیٹ پر ڈیٹا منتقل کرنے کی تیز ترین رفتار کا مظاہرہ موجودہ فائبر کیبل پر کیا گیا جو برطانیہ اور باقی ترقی یافتہ دنیا میں پہلے سے نصب ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تیزی سے ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کا مہنگا اپ ڈیٹ نہیں کرنا پڑے گا۔

الکاٹیل لیوسنٹ میں آپٹیکل مارکیٹنگ کے رہنما کیون ڈریوری اس ٹیسٹ کو کسی مصروف موٹر وے پر لینز کے درمیان خالی جگہوں کو کم کرنے کے مترادف قرار دیا جس کی بدولت ایک علاقے میں ٹریفک کے مزید کئی لینز کھل جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لچک کا مطلب یہ ہے کہ بعض لینز ضرورت کے مطابقل ڈھل جاتے ہیں، مثال کے طور پر صبح کے رش کے دوران بعض موٹر ویز پر ایک اضافی لین کھل جاتا ہے۔

انٹرنیٹ کی زبان میں اس کا مطلب کچھ اس طرح ہوگا کہ مثال کے طور پر ویڈیو کی سٹریمنگ کو ایک بڑا اور کھلا لین مل جائے گا جبکہ عام ویب سائٹوں تک رسائی کے لیے فائبر کے چھوٹے سے حصے کی ضرورت ہوگی۔

براڈ بینڈ کی تجزیہ کرنے والی فرم پوائنٹ ٹاپک کے چیف ایگزیکیٹیو اولیور جانسن نے کہا کہ ’الکاٹیل لیوسنٹ اپنے کام کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب آپ انٹر نیٹ کے لائنوں کو دبائیں گے تو اس میں خلل اور غلطی کا احتمال ہے ۔

الکاٹیل لیوسنٹ اور بی ٹی نے کہا کہ ان کے تجربہ ’مستحکم اور بغیر غلطی‘ کے کیا گیا۔

اسی بارے میں