فیس بک اور اہل علم آمنے سامنے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیس بک کے خاتمے کے بارے میں اکادمیہ کی جانب سے تحقیق پہلی بار سامنے نہیں آئی ہے مگر فیس بک نے کھل کر جواب پہلی بار دیا ہے

دسمبر میں ہمیں یونیورسٹی کالج لندن کے بشریاتی علوم کے محققین کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ فیس بک ’نوجوانوں کے لیے مردہ ہو چکی ہے۔‘

ان کی تحقیق کے نتائج پر کئی سوالیہ نشان لگے ہوئے تھے مگر اس ہفتے ہمیں پرنسٹن یونیورسٹی کے محقیقین سے معلوم ہوا ہے کہ فیس بک ایک وبائی مرض کی طرح ہے جو ختم ہو جائےگی اور 2017 تک اس کے اسی فیصد صارف اسے چھوڑ چکے ہوں گے۔

یہ پہلے والی تحقیق کے نتائج سے زیادہ مشکوک بات ہے یعنی سوچیں کہ اس تحقیق کے لیے وبائی امراض کا ماڈل استعمال کیا گیا ہے اور اسے ہوا بازی کے انجینئرز کے ذریعے مکمل کیا گیا۔ ہے نا مزے کی بات!

یہ گوگل کے ٹرینڈز سے ڈیٹا حاصل کرتی ہے جو فیس بک کے بارے میں کی گئی سرچ کے بارے میں ہوتا ہے اور اسے مائی سپیس کے اسی نوعیت کے ڈیٹا سے ملاتی ہے اور نتیجے نکالتی ہے کہ صارفین اسی طرح آج کے سماجی رابطوں کے نیٹ ورک چھوڑ دیں گے جیسا کہ انہوں نے ماضی میں اسی طرح کی ویب سائٹس کو چھوڑا۔

اس میں جو چیز نظرانداز کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس مائی سپیس کے عروج کے زمانے میں نومولود تھیں اور نئے صارفین کے آنے سے ان ویب سائٹس نے اپنا نظام ان کے لیے موافق کیا ہے جیسے جیسے نئے لوگ آتے گئے۔

آج یہ مارکیٹ بہت پختہ ہو چکی ہے اور جو لوگ اسے استعمال کرتے ہیں وہ اسے چھوڑنے کے لیے بہت زیادہ دلیلیں مانگیں گے جبکہ نئے صارفین وہیں جائیں گے جہاں ان کے دوست ہوا کریں گے جس کا اکثر مطلب فیس بک ہی ہوتا ہے۔

تاہم اس نئی خبر کی وجہ سے ایک بار پھر دنیا بھر میں شہ سرخیاں لگیں بے شک اس کے لکھنے والوں نے اس تحقیق کے طریقۂ کارکے بارے میں بھی نکات اٹھائے۔

اس بار جو مختلف تھا وہ فیس بک کا ردِ عمل تھا کیونکہ اس سے قبل فیس بک کی تعلقاتِ عامہ کے شعبے نے اس طرح کی خبروں کو بے کار کہہ کر رد کر دیا تھا مگر عوام کے سامنے کوئی ردِ عمل نہیں دکھایا تھا۔

اس بار انہوں نے ایک نیا طریقہ استعمال کیا اور وہ مزاح کے ذریعے اس خبر کو دبانے کا اور ترکی بہ ترکی جواب دینے کا طریقہ۔

فیس بک کے لیے کام کرنے والے ڈیٹا سائنس دان مائک ڈیویلن نے فیس بک پر اس کہانی کے حوالے سے ایک طنزیہ تحریر لکھی جس میں پرنسٹن یونیورسٹی کے طریقۂ کار پر طنز کی گئی تھی۔

انہوں نے یونیورسٹی کی استعمال کردہ تکنیک کو استعمال کر کے یونیورسٹی کی حالت کو بیان کیا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ’یونیورسٹی حالیہ سالوں میں گوگل کی سرچ میں کم ہوتی جا رہی ہے (یعنی اس کے بارے میں بہت کم لوگ سرچ کرتے ہیں) جس کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکلا کہ 2018 میں اس میں داخلہ لینے والے موجودہ تعداد کا نصف ہوں گے اور 2021 میں اس میں داخلہ لینے والا کوئی طالب علم نہیں ہو گا۔‘

اب کون جانتا ہے کہ فیس بک ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرنے جا رہی ہے یا نہیں مگر محقیقن اور اہل علم جس نے اس کے مستقبل کے خاتمے کی پیش خبری دی تھی کو فیس بک نے نوٹس دے دیا ہے کیونکہ فیس بک کے پاس بہت اچھے سائنس دان ہیں جو آپ کی تحقیق کہ نہ صرف پرخچے اڑا سکتے ہیں بلکہ جوابی حملہ بھی کر سکتے ہیں۔

اب آستینیں چڑھ چکی ہیں۔

اسی بارے میں