اینگری برڈز کی ویب سائٹ ہیک

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption اینگری برڈز بے حد مقبول گیمنگ پروگراموں میں سے ایک ہے

ویڈیو گیم تیار کرنے والی کمپنی روویؤ نے کہا ہے کہ ان کی اینگری برڈز کی سائٹ کو ہیک کیا گیا ہے۔

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی سائٹ پر جاسوس چڑیا کے نام کے ساتھ ایک تصویر ڈالی گئی جس پر امریکی ادارے این ایس اے کا لوگو چسپاں تھا۔

واضح رہے کہ یہ حملہ جاسوسی کے امریکی اور برطانوی اداروں کے بارے میں اس انکشاف کے بعد آیا ہے کہ انھوں نے فن لینڈ کی کم از کم ایک گیمز کمپنی سے ڈیٹا حاصل کیا۔

بہرحال کمپنی نے کہا ہے کہ وہ کسی حکومت کے جاسوسی کے ادارے کے ساتھ کسی قسم کے ’تعاون یا سازش‘ میں شامل نہیں ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انھوں نے فوری طور پر اپنی ویب سائٹ درست کرلی ہے۔

کمپنی کی مارکٹنگ منیجر سارا برگ سٹارم نے کہا کہ ’سائٹ پر ہونے والی گڑبڑ کی فوری نشاندہی ہو گئی اور اسی وقت درست کر لی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’صارفین کے ڈیٹا کو کسی بھی وقت کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ وہ اسی طرح انٹرنیٹ پر نظر آتا ہے اور زیادہ تر حصے میں یہ بالکل بھی نظر نہیں آتا ہے لیکن بعض معاملات میں درست معلومات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اسے اپ ڈیٹ کیا جا سکے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ حملہ نیویارک ٹائمز پر ہونے والے گذشتہ سال کے حملے سے مماثل نظر آتا ہے۔‘

واضح رہے کہ شامی الکٹرانک فوج (ایس ای اے) نامی ایک گروہ جو صدر بشار الاسد کے حامی ہیں انھوں نے نیویارک ٹائمز پر گذشتہ اگست کے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

منگل کے حملے کے بعد ایک ٹوئٹر اکاونٹ سے ایک لنک پوسٹ کیا گیا جس میں لکھا تھا کہ ’اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد کہ اینگری برڈ جاسوی کرتا ہے ایک دوست نے اینگری برڈ کو ہیک کیا اور اس کی شکل بدل دی۔ یہ حملہ این ایس اے مخالف ہیکر نے کیا تھا اس نے ہمارے دفتری ای میل پر ہیک ہونے والی ویب سائٹ کے ساتھ لنک بھیجا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سوموار کی تین سرکردہ عالمی اخبار نے امریکہ اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کی بابت یہ انکشاف شائع کیا تھا

واضح رہے کہ سوموار کو نیو یارک ٹائمز، پرو پبلكا اور دا گارڈین تینوں اخبار میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایس اے اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسی جی سی ایچ کیو سنہ 2007 سے ہی موبائل فون اور ٹیبلیٹ ایپلیکیشنز کے ذریعے معلومات جمع کرنے کے طریقے تیار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔

ان میں کہا گیا تھا کہ جی سی ایچ کیو نے سنہ 2012 کی اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا تھا کہ وہ کس طرح اینڈرائڈ فون پر اینگری برڈز ایپلیکیشن ڈالنے والے صارف کی معلومات اڑا لیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صارف کی عمر، جنس، جگہ اور یہ کہ وہ اس وقت موسیقی سن رہے ہیں یا بات کر رہے ہیں جیسی معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ معلومات کی دستیابی اس بات پر بھی منحصر ہے کہ روویؤ نے تفصیلات کس آن لائن ایڈورٹائزنگ نیٹورک پر ڈالی ہیں۔

اس انکشاف کے بعد روویؤ نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر غور کررہے ہیں کہ وہ اپنے پارٹنر کے ساتھ کس طرح ڈیٹا شیئر کریں۔

اسی بارے میں