ٹوئٹر کو ساڑھے 64 کروڑ ڈالر کا خسارہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد میں اضافے میں سست روی سرمایہ کاروں کے لیے بڑے خدشات کا باعث رہی

دنیا کی مقبول مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر نے نیویارک کے بازارِ حصص میں فروخت کے صرف تین ماہ بعد 64 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کے خسارے کا اعلان کیا ہے۔

تجزیہ کاروں نے ٹوئٹر کی آمدن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو گذشتہ سال 110 فیصد کے اضافے کے ساتھ 66 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی تھی، اس خسارے کی توقع ظاہر کی تھی۔

لیکن ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد میں اضافے میں سست روی سرمایہ کاروں کے لیے بڑے خدشات کا باعث رہی۔

ٹوئٹر کے حصص کی قیمت میں 73 فیصد اضافہ

ٹوئٹر نےکیسےدنیا بدل ڈالی؟

گذشتہ سہ ماہی میں ٹوئٹر کے صارفین کی ماہانہ اوسط تعداد 24 کروڑ دس لاکھ رہی جو اس سے پہلے سہ ماہی سے 3.8 فیصد زیادہ تھی۔ صارفین میں اضافے کی یہ تعداد سنہ 2013 کے اوائل کے مقابلے میں کم ہے جس میں دس فیصد دیکھا گیا تھا۔

صارفین کی طرف سے اپنی ٹائم لائن کو دیکھنے میں تقریباً سات فیصد کمی آئی جس سے لگتا ہے کہ صارفین نے اکثر اپنے پیغامات کو تازہ نہیں کیا۔

سٹرن آگی اینڈ لیچ کمپنی کے تجزیہ کار اروندا بھاٹیہ نے کہا کہ ’اس رپورٹ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹوئٹر صارفین کے استعمال کے لیے کتنا مرکزی پلیٹ فارم ہے۔‘

بدھ کو کاروبارشروع ہونے کے ایک گھنٹے میں ٹوئٹر کے حصص 12 فیصد گر گئے۔

فارسٹر ریسرچ کمپنی کے ایک تجزیہ کار نیٹ ایلیٹ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اگر آپ کے مستقل صارفین نہیں ہیں تو آپ کا کاروبار ہی نہیں۔‘

نومبر میں بازار حصص میں آنے کے وقت ٹوئٹر کے حصص کی قدر میں دگنا اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت اس کے حصص کی قدر کا اندازہ تقریباً 18 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔

ٹوئٹر نے کہا کہ اسے سنہ 2013 کے آخری تین ماہ میں 51 کروڑ دس لاکھ امریکی ڈالر کا کل نقصان ہوا ہے لیکن آمدن میں 24 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا خسارہ ہوا۔

ٹوئٹر نے کہا ہے کہ وہ کسٹم ٹائم لائن اور پیغامات کے ذریعے براہ راست تصویریں بھیجنے کی سہولت شروع کرکے اپنی سروس کو بہتر بنا رہا ہے۔

اس نے اشتہارات دینے والوں کے لیے بھی سروس بہتر کرنے کا بھی وعدہ کیا جس سے اسے آمدن میں اضافے کی توقع ہے۔

ٹوئٹر کی زیادہ تر کمائی اشتہارات سے ہے جن کے لیے مختلف کمپنیاں اسے اپنی ٹویٹس کی تشہیر کی مد میں ادائیگی کرتی ہیں۔

ٹوئٹر کا قیام سات سال قبل عمل میں آیا تھا اور اسے بازارِ حصص میں TWTR کے نام سے پیش کیا گیا تھا۔

ٹوئٹر اپنی آمدن کا بڑا حصہ موبائل فون پر اشتہارات سے بھی حاصل کرتا ہے۔

اسی بارے میں