وٹامن سی کینسر کے طریقہ علاج میں تقویت کا باعث

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption کینسر کی بیماری میں وٹامن سی کو بہت پہلے سے متبادل علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے

امریکی محققین کا دعویٰ ہے کہ وٹامن سی کی زیادہ مقدار كيموتھراپی کے ذریعے کینسر کے علاج کے اثرات کو بڑھا دیتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انجیکشن سے وٹامن سی کی خوراک دی جائے تو یہ بچہ دانی اور دیگر کینسروں کے علاج میں کافی محفوظ، موثر اور سستا طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔

’سائنس ٹراسلیشنل میڈیسن‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں بڑے پیمانے پر سرکاری کلینکل تجربے کیے جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

چونکہ وٹامن کو پیٹنٹ نہیں کرایا جا سکتا اس لیے دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے کلینکل ٹرائل چلائے جانے کا امکان کم ہے۔

کینسر کی بیماری میں وٹامن سی کو بہت پہلے سے متبادل علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

كیمسٹ لینس پولنگ نے 1970 کی دہائی میں دریافت کیا تھا کہ رگوں میں وٹامن سی کی خوراک دیا جانا کینسر کے علاج میں کافی موثر ہوتا ہے۔ تاہم منہ سے جسم میں پہنچنے والے وٹامن سی کا کلینکل ٹرائل ضروری نتائج دینے میں ناکام رہا، اس لیے یہ تحقیق بند کر دی گئی۔

اب یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ منہ سے وٹامن سی لینے پر جسم تیزی سے وٹامن سی کو خارج کر دیتا ہے۔

اگرچہ کینسس یونیورسٹی کے سائنس دان کہتے ہیں کہ انجکشن سے دیے جانے پر وٹامن سی کو جسم تیزی سے جذب کر لیتا ہے۔ اس طرح وہ صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر کینسر زدہ خلیوں کو ختم کر دیتا ہے۔

چوہوں پر کیے گئے مطالعے میں پتہ چلا ہے کہ معیاری كيموتھیراپی ادویات کے ساتھ کیا جانا والا یہ علاج رسولی کو بڑھنے سے روکنے میں کارگر ثابت ہوا۔ البتہ كيموتھراپی کے ساتھ وٹامن سی دیے جانے پر کچھ مریضوں نے ضمنی اثرات کی شکایت کی۔

معاون محقق ڈاکٹر جینی ڈرسكو کے مطابق وٹامن سی کے استعمال کا رواج بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول ’ کینسر سے مقابلہ کرنے کے لیے مریض محفوظ اور سستے حل کی طرف دیکھتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ رگوں سے دیا جانے والے وٹامن سی کا اثر ابتدائی اعداد و شمار اور بنیادی تحقیق پر مبنی ہے۔

اہم محقق چي چین کے مطابق کلینکل ٹرائل کے لیے فنڈ مہیا کرنے کے لیے دوا ساز کمپنیوں کی ہچکچاہٹ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ قدرتی مصنوعات کو پیٹنٹ نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں