دھماکے میں بچ جانے والوں کی اطلاع دینے والی ایپ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption موبائل فون پر کئی ایپس مقبول ہو رہی ہیں جن میں سماجی مسائل کے حل کے لیے بھی ایپس موجود ہیں

’میں زندہ ہوں،‘ یہ سادہ سا پیغام لبنان میں ایک موبائل ایپ کی صورت دستیاب ہے جو کسی بم دھماکے کی صورت میں بچ جانے والے شخص کی اطلاع کو ٹویٹ کر سکتا ہے۔

یہ پیغام موبائل میں موجود صرف ایک بٹن دبانے سے ٹویٹ ہو جائے گا۔

یہ ایپ بہت جلد دوسری ممالک میں بھی دستیاب ہو گی اور اس کا استعمال کسی بھی آفت کا شکار ہونے والے لوگ کر سکتے ہیں۔

جب بھی کوئی شخص ایپ بناتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مقبول ہو۔ لیکن یہ ایپ بنانے والی 26 سالہ لبنانی طالبہ سانڈرا حسن کے جذبات ’میں زندہ ہوں‘ کے لیے ملے جلے ہیں۔

انہوں نے جب 21 جنوری کو یہ ایپ لانچ کی تو ان کا مقصد لبنان میں سکیورٹی کی خراب صورتحال پر ’جھنجھلاہٹ کے جذبات کا اظہار‘ کرنا تھا۔

ان کا کہنا ہے ’میں توقع نہیں کر رہی تھی لوگ واقعی اسے استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا ہی کیا۔‘

ایپ کے لانچ کیے جانے کے بعد دو مزید بم دھماکے ہوئے۔ اب تک اسے چار ہزار لوگوں نے ڈاؤن لوڈ کیا ہے اور درجنوں اسے استعمال کر چکے ہیں۔

اس ایپ کے تحت ایک بٹن کو چھوتے ہی ایک پیغام ٹویٹ ہو جاتا ہے: ’میں ابھی زندہ ہوں۔‘ اس کے ساتھ ہیش ٹیگ میں ’لبنان‘ اور ’حالیہ بم دھماکہ‘ بھی تحریر ہوتا ہے۔

اس ایپ کے کئی عملی فائدہ ہیں۔ کسی بھی بم دھماکے کے بعد فون لائنیں مصروف ہوجاتی ہیں کیونکہ ہر کوئی اپنے خاندان والوں اور دوستوں کی خیریت جاننا چاہتا ہے اور اس وجہ سے کال ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔

لیکن سانڈرا حسن کہتی ہیں کہ اس ایپ کے ذریعے یہ پیغام پوسٹ کرنے کے لیے کمزور انٹرنیٹ سنگل بھی کافی ہوتے ہیں۔

لبنان میں بڑھتے ہوئے بم حملوں کے بعد کئی لوگ ناراض اور جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ کئی لوگوں نے اس ایپ پر تنقید بھی کی لیکن زیادہ تر نے اس کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے فیس بک سے منسلک کرنے اور سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے والوں کے لیے بھی فائدہ مند بنانے کے لیے اس میں تبدیلیوں کی پیشکش بھی کی ہے۔

سانڈرا حسن اس ایپ کی اپ ڈیٹ بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

کئی دیگر ممالک سے بھی لوگوں نے ایپ کے حصول کے لیے سانڈرا سے رابطہ کیا ہے خاص طور پر مصر اور پاکستان سے، اور سانڈرا ان ممالک کو ایپ دینے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں۔

ان سے ایک امدادی ادارے نے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ اس ایپ کو قدرتی آفات کے وقت بھی استعمال کیا جا سکے۔

اسی بارے میں