’جرمن مچھروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرمن سائنسدان ملیریا کے بطور حیاتیاتی ہتھیار ممکنہ استعمال پر تحقیق کر رہے تھے

ایک جرمن ماہرِ حیاتیات نے دعویٰ کیا ہے کہ جرمن سائنسدانوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تحقیق کی تھی۔

ٹوبگین یونیورسٹی کے ڈاکٹر كلاز رائن ہارٹ نے 1944 میں ڈكاؤ حراستی مرکز میں قائم کیے جانے والے ایک تحقیقاتی مرکز کی دستاویزات کا مطالعہ کیا ہے۔

یہ مرکز نازيوں کی نیم فوجی تنظیم شٹز سٹافیل کے سربراہ ہینرک ہیملر کے حکم پر قائم کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر رائن ہارٹ کے مطابق انھیں پتہ چلا کہ سائنسدان ایسے مچھروں کی تلاش میں تھے جن میں ملیریا کے جراثیم داخل کر کے انھیں دشمن کے علاقے میں پھیلایا جا سکے تاکہ یہ مرض وہاں پھیل جائے۔

خیال رہے کہ ڈکاؤ کے حراستی مرکز میں قیدیوں کو جبراً ملیریا کا مریض بنانے کے واقعات ہوئے تھے۔

ڈاکٹر رائن ہارٹ نے ایک سائنسی جریدے میں لکھا ہے کہ انہیں اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ اس یونٹ کے محقق ایک خاص قسم کے مچھر پر تحقیق کر رہے تھے جو کہ پانی اور کھانے کے بغیر چار دن تک رہ سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مچھر کو ملیریا سے متاثر کرنے کے بعد اسے دشمن علاقوں میں ہوا سے گرایا جاتا، یہ طویل تک زندہ رہتا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کرتا۔

ان کا اندازہ ہے کہ سائنسدان ملیریا کے بطور حیاتیاتی ہتھیار ممکنہ استعمال پر تحقیق کر رہے تھے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ ڈكاؤ میں مچھروں پر تحقیق اور حراستی کیمپ میں ڈاکٹر كلاذ شلگ کے اقدامات میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر شلگ نے ملیریا پر کئی تجربات میں قیدیوں کو استعمال کیا تھا اور انہیں جان بوجھ کر اس مرض میں مبتلا کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر شلگ کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد پھانسی کی سزا دے دی گئی تھی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مچھروں کو حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا خیال عملی جامہ نہیں پہن سکا تھا کیونکہ اس وقت جرمنی کو اتحادی افواج کی جانب سے شدید بمباری کا سامنا تھا۔

اسی بارے میں