’کتے اپنے مالکان کی آوازیں سمجھتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Borbala Ferenczy
Image caption انسانی آوازیں سننے پر کتوں اور انسانوں کے دماغ کا ایک ہی حصہ متحرک ہوا

پالتو کتّوں کے کئی مالکان دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پالتو جانور انھیں سمجھتے ہیں اور ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ممکن ہے کہ ان کا دعویٰ صحیح ہو۔

ہنگری میں کتوں کے ایم آر آئی سکین سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کا دماغ انسانی دماغ ہی کی طرح آوازوں پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

عام آوازوں کے علاوہ رونے اور ہنسنے جیسی جذباتی آوازوں پر بھی کتوں کے دماغ کا ردعمل انسانی دماغ جیسا تھا۔

یہ تحقیق ’کرنٹ بایالوجی‘ نامی سائنسی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔

ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کی ایوٹووس لونارڈ یونیورسٹی کے اکیڈمی آف سائنسز سے تعلق رکھنے والی مرکزی محقق اٹیلا اینڈس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارا خیال ہے کہ جذباتی معلومات کا تجزیہ کرنے کے لیے کتوں اور انسانوں کا نظام بہت ملتا جلتا ہے۔‘

اس تحقیق میں 11 کتوں نے حصہ لیا اور اس کے لیے انھیں خصوصی تربیت دی گئی تھی کیونکہ اس دوران انھیں سکینر روم میں آٹھ منٹ تک بےحس و حرکت لیٹنا تھا۔

موازنے کے لیے محققین نے 22 انسانی رضاکاروں کے دماغوں کا بھی انھی حالات میں معائنہ کیا جن میں کتوں کو رکھا گیا تھا۔

اس تحقیق کے دوران انسانوں اور کتوں دونوں کو 200 مختلف آوازیں سنائی گئیں جن میں روزمرہ کی آوازوں کے علاوہ انسانی آوازیں (جن میں الفاظ شامل نہیں تھے) اور کتوں کی آوازیں بھی شامل تھیں۔

اس تجربے سے پتہ چلا کہ انسانی آوازیں سننے پر کتوں اور انسانوں کے دماغ کا ایک ہی حصہ متحرک ہوا۔

ڈاکٹر اینڈس کے مطابق: ’ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ دیگر آوازوں کے مقابلے میں انسانی آواز سن کر انسانی دماغ کے کچھ مخصوص حصے متحرک ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انسانی آواز سن کر کتے کے دماغ کے بھی وہی حصے متحرک ہوئے جو انسانی دماغ میں ہوئے تھے۔ یہ حقیقت حیران کن ہے کہ کتے کے دماغ میں بھی یہ حصے موجود ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انسان کے علاوہ کسی اور جاندار میں ان کا پتہ چلا ہے۔‘

اٹیلا اینڈس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ پالتو کتے اپنے مالک کے احساسات کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہیں اور یہ بھی کہ مالک اپنے پالتو کتے میں جذباتی تبدیلیوں کی نشاندہی کر سکتا ہے لیکن اب ہمیں اس کی وجہ معلوم ہوئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Eniko Kubinyi
Image caption کتوں کو سکینر روم میں آٹھ منٹ تک بےحس و حرکت لٹایا گیا

اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر سوفی سکاٹ کا کہنا ہے کہ ’انسانی دماغ میں ایسے حصے پانا غیرمعمولی نہیں لیکن کتوں میں ان کا ملنا واقعی الگ چیز ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ یہ جانور آوازوں کے مقابلے میں الفاظ پر کس قسم کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اگلا قدم ہوگا اگر وہ اپنے مالک کے الفاظ پر بھی اسی قسم کی حساسیت کا مظاہرہ کریں۔‘

ڈاکٹر اینڈس کا کہنا ہے کہ وہ تجربات کے اگلے مرحلے میں اسی چیز پر کام کرنا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں