وائی فائی کے ذریعے وائرس کا پھیلانے کا سافٹ ویئر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جب وائے فائے ہیکر کے کنٹرول میں آ جاتا ہے تو وہ اس پر نئے سافٹ ویئر انسٹال کر سکتا ہے

لیور پول یونیورسٹی میں محققیقین نے ایک ایسا وائرس تیار کیا ہے جو وائی فائی کے ذریعے ’عام زکام‘ کی طرح پھیل سکتا ہے۔

گنجان آباد علاقوں میں جہاں وائی فائی کے زیادہ نیٹ ورک ہوتے ہیں وہاں یہ وائرس غیر محفوظ وائی فائی ڈھونڈ کر ایک نیٹ ورک سے دوسرے نیٹ ورک پر جاتا ہے۔

وائرس جب ایک دفعہ وائی فائی کے رسائی کے مقام پر قابو پا لیتا ہے تو یہ اس نیٹ ورک پر کمپیوٹروں کو خطرے سے دوچار کر لیتا ہے۔

محققیقین کی ٹیم کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کر رہے ہیں جو اس قسم کے حملوں کو روک سکے۔

لیور پول یونیورسٹی میں کمیونیکیشنز نیٹ ورک کے پروفیسر ایلن مارشل نے کہا کہ ’بجائے اس کے کہ آپ اس پر انحصار کریں کہ لوگ ایک مشکل پاس ورڈ رکھیں، آپ انٹر نیٹ کے رسائی کے مقام پر دخل اندازی کو روکنے کا نظام لگانا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے وائرس کے حملے کی زیادہ تفصیل نہیں بتائی لیکن کہا کہ اس کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔

اس وائرس کو گرگٹ کا نام دیا گیا ہے جو گھروں میں لگے ہوئے ان وائی فائی کے رسائی کے مقامات کو ہدف بناتا ہے جن کے ایڈمن پاس ورڈ تبدیل نہ کیےگئے ہوں۔

یہ پاس ورڈ وائی فائی پر لاگ ان ہونے والے پاس ورڈ سے مختلف ہوتے ہیں جنھیں اکثر ڈیفالٹ سیٹنگز میں تبدیل نہیں کیا جاتا۔

جب وائی فائی کے رسائی کا مقام ہیکر کے کنٹرول میں آ جاتا ہے تو وہ اس پر نئے سافٹ ویئر انسٹال کر سکتا ہے۔

پروفیسر مارشل کہتے ہیں کہ’اب یہ ہمارے کنٹرول میں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’ایک دفعہ جب آپ یہ کر لیتے ہیں تب آپ اس کے ساتھ اور بھی کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ پاس ورڈ معلوم کر سکتے ہیں، معلومات چرا سکتے ہیں، آپ جو کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔‘

لیکن انسٹال ہونے کے بعد وائرس کا دوسرا قدم غیر معمولی ہے۔

ایک وائی فائی کے رسائی کے مقام پرانسٹال ہونے کے بعد یہ وائرس خود بخود دوسرے غیر محفوظ وائی فائی کے رسائی کے مقام کو ہدف بناتا ہے اور اسے قابو کر لیتا ہے۔

پرفیسر مارشل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وائرس سے بڑے کاروباری اداروں میں لگے وائی فائی کے نیٹ ورک کو زیادہ خطرہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہاں نیٹ ورک کو سکیور کیا جاتا ہے لیکن یہ گھروں اور کافی شاپز میں لگے وائی فائی کے لیے خطرہ ہے۔

پروفیسر مارشل کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے اس خطرے کی طرف نشاندہی کی ہے تو اب وہ اسے روکنے کے لیے سافٹ ویئر تیار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں