’ماؤنٹ ایورسٹ سے اترتے ہوئے کُوڑا لانا لازمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہر سال اپریل میں کوہ پیمائی کے سیزن کے آغاز پر بڑی تعداد میں مہم جو ایورسٹ کا رخ کرتے ہیں

نیپالی حکومت نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے جانے والے تمام کوہ پیماؤں اور ان کے مددگار عملے کے لیے پہاڑ سے اترتے ہوئے آٹھ کلو کوڑا کرکٹ ساتھ لانا لازمی قرار دے دیا ہے۔

ایک نیپالی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قانون کا اطلاق اس موسمِ بہار سے ہر اس فرد پر ہوگا جو 5300 میٹر کی بلندی پر واقع ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ سے اوپر جائے گا۔

ان کے مطابق یہ فیصلہ پہاڑ پر اور اس کے اردگرد موجود کوڑے کرکٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والے خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کوہ پیماؤں میں بہت مقبول ہے اور ہر سال اپریل میں کوہ پیمائی کے سیزن کے آغاز پر بڑی تعداد میں لوگ یہاں آتے ہیں۔

نیپالی حکومت پہلے ہی کوہ پیماؤں کو اپنا تمام کوڑا کرکٹ واپس لانے کا پابند کر چکی ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کی بطور زرِ ضمانت جمع کروائی گئی چار ہزار ڈالر کی رقم ضبط کر لی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماضی میں کئی نیپالی اور غیر ملکی کوہ پیماؤں نے ایورسٹ کی صفائی کی کوشش کی ہے

تاہم اب حکومت نے اس قانون کو مزید سخت کرتے ہوئے کوہ پیماؤں کے گروہوں کے ساتھ ساتھ پہاڑ پر جانے والے ہر فرد کو آٹھ کلو کوڑا واپس لانے کی ذمہ داری سونپی ہے اور اس کوڑے کرکٹ میں انسانی فضلہ اور آکسیجن کے خالی سلینڈر شامل نہیں ہیں۔

کھٹمنڈو میں نیپالی حکومت کے اہلکار مدھوسودن برلاکوٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب یہ افراد ایورسٹ کے بیس کیمپ واپسی پر سگرماتھا انسدادِ آلودگی کمیٹی کو لایا گیا کوڑا کرکٹ جمع کروا دیں گے تو انھیں ایک رسید دی جائے گی جسے دکھا کر ہی یہ اپنا زرِ ضمانت حاصل کر سکیں گے۔‘

ماضی میں کئی نیپالی اور غیر ملکی کوہ پیماؤں نے ایورسٹ کی صفائی کی کوشش کی ہے۔

2010 میں نیپالی شرپا پہاڑ کی صفائی اور چوٹی کے قریب ہلاک ہونے والے دو کوہ پیماؤں کی لاشیں لانے کے لیے کامیاب مہم پرگئے تھے۔

نیپالی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر کتنا کوڑا موجود ہے تاہم کوہ پیماؤں کا کہنا ہے کہ جتنا اوپر جاتے جائیں کوڑے کی مقداد بڑھتی جاتی ہے۔

اسی بارے میں