مرنے کے بعد نُطفہ بیوی کا ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مجھے اپنی زندگی دوبارہ کسی ڈگر پر ڈالنے کے لیے وقت چاہیے: بیتھ وارن

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ایک خاتون نے ایک قانونی جنگ جیت لی ہے جس کے بعد اس کے مرحوم شوہر کے منجمد نطفے کو ضائع نہیں کیا جائےگا۔

بیتھ وارن نامی خاتون کے شوہر نے کینسر کا علاج شروع کروانے سے پہلے قانونی کاغذات پر دستخط کر دیےتھے جن میں لکھا گیا تھا کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی اہلیہ اس کے سپرم کو استعمال کر سکتی ہے۔

مسٹر وارن بروئر دماغ کے ٹیومر کے مرض میں مبتلا تھے اور دو سال قبل ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ برطانوی قوانین کے مطابق ان کی موت سے دو سال بعد (اپریل سنہ 2015) ان کے منجمد نطفے کو تلف کر دیا جانا تھا۔ لیکن ان کی 28 سالہ بیوہ نے ہائی کورٹ میں اس قانون کو چیلنج کر دیا۔ بیتھ وارن کا مؤقف تھا کہ مذکورہ قانون عقل کے منافی ہے، جس پر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

بیتھ اور وارن آٹھ برس سے ایک ہی چھت کے نیچے رہائش پذیر تھے اور پھر وارن کی موت سے محض چھ ہفتے پہلے انھوں نے ہسپتال میں ہی شادی کر لی تھی۔

برطانوی قانون کے مطابق آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ اپنا نطفہ 55 برس تک کسی سپرم سٹور میں رکھوا سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر دوسال بعد اپنی اس خواہش کی تجدید کریں۔ فروری سنہ 2012 میں وارن کا انتقال ہو جانے کی وجہ سے ان کے قانونی کاغذات کی تجدید کرنا ممکن نہ رہا۔

برطانوی میں نطفوں (سپرمز) اور بیضوں (ایگز) کو محفوظ کرنے والے سرکاری ادارے کا کہنا تھا کہ وہ اپریل 2015 کے بعد وارن کے نطفے کو محفوظ نہیں رکھیں گے اور اسے تلف کر دیں گے۔ لیکن بیتھ وارن کے وکلا نے ہائی کورٹ سے استدا کی کہ سرکاری ادارہ اس معاملے میں مرنے والے کی بیوی کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض قانون میں لکھے ہوئے الفاظ کو دیکھ رہا ہے اور معاملے کی نزاکت کو نہیں سمجھ رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Arquivo Pessoal
Image caption وارن کے انتقال سے چند ہفتے قبل دونوں نے شادی کر لی تھی

اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کی خاتون جج نے کہا کہ ’حالات و واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میاں اور بیوی کے درمیان اس حوالے سے اتفاق پایا جاتا تھا، اور شوہر کی خواہش تھی کہ ان کے انتقال کے بعد اگر ان کی بیوہ چاہے تو وہ ان کے بچے کی ماں بن سکے۔‘

جج نے مزید کہا کہ ’اگرچہ مسٹر وارن کے دستخط شدہ کاغذات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ سنہ 2015 کے بعد بھی ان کے نطفے کو محفوظ رکھا جائے، تاہم عدالت کی نظر میں درست فیصلہ یہ ہوگا کہ ان کے نطفے کو ان کی بیوہ کی درخواست پر کم از کم دس سال مزید محفوظ رکھا جائے۔‘

فیصلہ سننے کے بعد بیتھ نے کہا کہ ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور انہیں یقین نہیں آ رہا۔

مقدمے کے آغاز پر بیتھ وارن کا کہنا تھا کہ ایک ایسے بچے کو جنم دینا جو اپنے والد سے کبھی بھی نہیں ملے گا، یہ ایک ’بہت بڑا فیصلہ‘ ہوگا۔ میں ابھی تک یہ بچہ پیدا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کی حالت میں نہیں ہوں: ’مجھے اپنی زندگی دوبارہ کسی ڈگر پر ڈالنے کے لیے وقت چاہیے۔

’ہو سکتا کہ میں کبھی بھی آئی وی ایف ٹریٹمنٹ (’ٹیسٹ ٹیوب بے بی‘) نہ کرواؤں اور اس نطفے کو کبھی استعمال نہ کروں لیکن میں چاہتی تھی کہ عدالت مجھے یہ حق ضرور دے۔ میں ابھی تک اپنے میاں کی موت کے سوگ میں ہوں، اس لیے میں اس وقت وارن کے بچے کی ماں بننے کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔‘

اسی بارے میں