چینی کے استعمال میں 50 فیصد کمی کریں: عالمی ادارۂ صحت

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption عالمی ادارۂ صحت کی یہ ہدایات انسانی صحت پر چینی کے اثرات کے مفصل جائزے کے بعد سامنے آئی ہیں

عالمی ادارۂ صحت کی نئی ہدایات کے مطابق لوگوں کو اپنی روزانہ کی خوراک میں چینی یا شکر کی مقدار کو نصف کر دینا چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایک عام شخص دن میں جتنی کیلوریز لیتا ہے چینی کا اس میں حصہ دس فیصد سے کم ہونا چاہیے جبکہ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ حصہ پانچ فیصد تک ہی ہو۔

ان ہدایات کے مطابق ایک عام وزن والا شخص روزانہ 50 گرام تک چینی استعمال کر سکتا ہے۔

عالمی ادارے نے اس تجویز کی منظوری 2002 میں دی تھی تاہم اسے 12 برس بعد ہی ہدایات میں شامل کیا جا سکا ہے۔

تاہم اب کئی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں فربہ افراد کی تعداد میں اضافے کے تناظر میں دس فیصد کی حد بھی بہت زیادہ ہے۔

نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تازہ ہدایات کے مطابق روزانہ خوراک سے حاصل ہونے والی توانائی میں شکر کا حصہ دس فیصد سے کم ہونا چاہیے اور اگر اسے پانچ فیصد سے کم کی حد پر لایا جائے تو اس کے اضافی فوائد ہوں گے۔‘

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر برائے غذائیت ڈاکٹر فرانسیسکو برانکا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دس فیصد کا ہدف تو بےحد ضروری ہے جبکہ اگر ممکن ہو تو ہمیں پانچ فیصد کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔‘

ادارہ اب ان ہدایات پر عوام سے رائے لے گا جس کے بعد رواں برس موسمِ گرما میں حتمی ہدایات جاری کی جائیں گی۔

غذائیت کی ماہر کیتھرین جینر کا کہنا ہے کہ کہ ’یہ المیہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو شکر کے استعمال کے بارے میں ہدایات میں تبدیلی لانے میں دس برس لگ گئے۔‘

عالمی ادارۂ صحت کی یہ ہدایات انسانی صحت پر چینی کے اثرات بشمول دانتوں کی خرابی اور مٹاپے میں اس کے کردار کے مفصل جائزے کے بعد سامنے آئی ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں برطانیہ میں موٹاپے اور ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جو کھانوں اور سافٹ ڈرنکس میں چینی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔

’ایکشن آن شوگر‘ نامی اس گروپ کو کنسینسنس ایکشن آن سالٹ اینڈ ہیلتھ (کیش) کی ٹیم نے تشکیل دیا ہے جو 90 کی دہائی سے کھانوں میں نمک کے کم استعمال پر زور دیتی رہی ہے۔

نئی تنظیم کا مقصد لوگوں کو ’خفیہ شوگرز‘ سے بچنے میں مدد دینا اور صنعت کاروں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ مستقبل میں اس کی مقدار میں کمی لائیں۔

اسی بارے میں