خوشگوار موسم چنگیز خان کی فتوحات میں مددگار ثابت ہوا: سائنسدان

تصویر کے کاپی رائٹ AP National Palace Museum
Image caption چنگیز خان نے منگول قبائل کو اکٹھا کرکے ایک بڑے خطے پر حملہ کرکے اس پر حکمرانی کی

امریکی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں چنگیز خان کا اقتدار میں آنے اور ایک بڑی منگول سلطنت کے قیام میں موافق موسمی حلات کا بڑا دخل تھا۔

مرکزی منگولیا میں پرانے درختوں کے جھنڈ کا مطالعہ کرنے والے امریکی محقیقین نے یہ دریافت کیا ہے کہ چنگیز خان کا ایک مضبوط اور طاقتور سلطنت قائم کرنے کے زمانے میں موسم 1000 سال سے زیادہ عرصے میں سب سے زیادہ معتدل اور موافق تھا ۔

اس موسم میں گھاس جلدی اگتی تھی جس سے ان کے گھوڑوں کو چارہ آسانی سے دستیاب ہوا۔

چنگیز خان نے منگول قبائل کو جمع کر کے ایک بڑے خطے پر حملہ کر کے اس پر حکمرانی کی۔ ان میں جدید کوریا، چین، روس، مشرقی یورپ، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاقے شامل تھے۔

پروسیڈنگ آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں شائع مطالعے کے مطابق چنگیز خان کی حکومت سے پہلے سنہ 1180 سے 1190 کے درمیان شدید قحط سالی رہی۔

لیکن جیسے ہی سنہ 1211 سے سنہ 1225 کے درمیان چنگیز خان نے اپنی سلطنت کو وسعت دی تو منگولیا میں غیر معمولی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس سے درجۂ حرارت معتدل ہو گیا۔

اس مطالعے میں شامل اور مشرقی ورجینیا یونیورسٹی کے جنگلات کے ماہر آمے ہیسل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ موسم میں شدید خشکی سے شدید نمی کی طرف تبدیلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی واقعات کے وقوع پذیر ہونے میں اب و ہوا کا کلیدی کردار رہا۔

انھوں نے موسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’یہ واحد چیز نہیں تھی لیکن اس کی وجہ سے اس سحر انگیز رہنما کو افراتفری سے نکل کر فوج تیار کرکے طاقت حاصل کرنے کا موقع ملا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’جس علاقے میں بارش کم ہوتی ہے وہاں پر نمی کی وجہ سے پودوں کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے جس سے گھوڑوں کو طاقت ملتی ہے اور چنگیز خان نے اس کا فائدہ اٹھایا۔‘

اچھے موسم کا سہار لیتے ہوئے چنگیز خان نے اپنے مایوس قبائل کو جمع کرکے ایک مضبوط فوج بنا لی ا ور پڑوس کے علاقوں کو فتح کیا۔

آمے ہیسل اور تحقیق کے سربراہ اور کولمبیا یونیورسٹی کے نیل پیڈرسن نے منگولیا میں سائبیرئن صنوبر کے درختوں پر تحقیق کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مطالعے کے دوران انھیں ایسے درخت بھی ملے جن کی عمریں 1100 سال سے بھی زیادہ تھیں اور انھیں درخت کا ایسا ٹکڑا بھی ملا جن کا وجود 650 قبل مسیح سے تھا۔

اسی بارے میں