امریکی حکومت ’انٹرنیٹ کی چیمپیئن بنے نہ کہ اس کے لیے خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’حکومت کو اپنی کارروائیوں کے حوالے سے مزید شفاف ہونے کی ضرورت ہے ورنہ لوگوں کا اعتبار اٹھ جائے گا‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر براک اوباما کو امریکی ایجنسی کی جانب سے ڈیجیٹل جاسوسی پر مایوسی سے آگاہ کیا ہے۔

انتیس سالہ فیس بک کے بانی زکر برگ نے بلاگ میں لکھا ہے کہ امریکی حکومت کو ’انٹرنیٹ کا چیمپیئن بننا چاہیے نہ کہ اس کے لیے خطرہ‘۔

انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے ’جب ہمارے انجینیئرز سکیورٹی کو مزید بہتر کرنے کے لیے انتھک محنت کرتے ہیں تو ہمارا خیال ہوتا ہے کہ ہم جرائم پیشہ افراد سے اس کو محفوظ بنا رہے ہیں نہ کہ اپنی ہی حکومت سے۔‘

بلاگ میں انہوں نے مزید لکھا ہے ’حکومت کو اپنی کارروائیوں کے حوالے سے مزید شفاف ہونے کی ضرورت ہے ورنہ لوگوں کا اعتبار اٹھ جائے گا۔‘

مارک زکر برگ نے یہ بات ایسی وقت کی ہے جب ایک روز قبل ہی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے فیس بک کا جعلی سرور بنایا تاکہ ڈیجیٹل جاسوسی کو مزید وسیع کیا جا سکے۔

ماکر زکر برگ نے گزشتہ ستمبر میں کہا تھا کہ انٹرنیٹ جاسوسی کے حوالے سے امریکہ کے اقدامات ناکام رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کی جانب سے جاسوسی کے بارے میں انکشاف سی آئی اے کے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے کیا تھا۔

سنوڈن کی جانب سے انکشاف میں کہا گیا تھا کہ این ایس اے فون ریکارڈز، فائبر آپٹکس اور نیٹ ورک کو ہیک کر کے معلومات حاصل کر رہی ہے۔

سنوڈن کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ این ایس اے نو بڑی ٹیکنالوجیکل کمپنیز کی جاسوسی کر رہی ہے جن میں مائیکروسافٹ، ہاہو، گوگل، فیس بک، پیل ٹاک، اے او ایل، یوٹیوب اور سکائپ شامل ہیں۔

اسی بارے میں