بدن کی خوشبو بھی اہم ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سچی محبت تک پہنچنے کے لیے آپ کو خوشبو کا سفر کرنا ہوگا

یہ شام کا وقت ہے اور مشرقی لندن کے ایک بار میں مرد اور خواتین ایک بڑی میز کےگرد جمع ہیں جس پر پلاسٹک کے بیگوں کا ایک انبار لگا ہوا اور ہر بیگ میں ایک بنیان یا ٹی شرٹ پڑی پوئی ہے۔

ہر کوئی ایک بیگ اٹھاتا ہے، اس کے اندر پڑی ہوئی ٹی شرٹ کو نکال کر سونگھ رہا ہے۔

حیران ہونے کی ضرورت نہیں، اس تقریب کا اہتمام ایک ڈیٹنگ کمپنی نے کیا ہے اور یہاں پر آئے ہوئے خواتین و حضرات محبت کی تلاش میں یہاں جمع ہیں۔

اس انوکھی ڈیٹنگ کمپنی کا نام ہے ’فیرامون پارٹیز ( Pheromone Parties )۔‘ فیرامون کسی جانور کے بدن سے خارج ہونے والے ایسے کیمیائی مادے کو کہتے ہیں جسے سونگھ کر اس نسل کے دوسرے جانور مذکورہ جانور کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اسے پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹنگ کمپنیوں کی کاروبار کی کل مالیت دو ارب برطانوی پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے، تاہم فیرامون پارٹیز وہ پہلی ڈیٹنگ کپمنی ہے جس نے محبت کے خواہشمند مردوں اور عورتوں کو اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرانے میں سائنس کا سہارہ لیا ہے۔

فیرامون پارٹیزاس مقصد کے لیے ہر امیداوار کے بدن سے نکلنے والی خوشبو (؟) کے نمونوں کا استعمال کرتی ہے کیونکہ کمنپی کا کہنا ہے کہ آپ کے بدن کی خوشبو آپ کو پسند یا ناپسند کیے جانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یوں سچی محبت تک پہنچنے کے لیے آپ کو خوشبو کا سفر کرنا ہوگا۔

کمپنی ڈیٹنگ کے ہر امیدوار سے کہتی ہے کہ وہ متوقع جیون ساتھی سے ملنے سے پہلے تین رات ایک ہی ٹی شرٹ میں سوئیں اور پھر ڈیٹنگ کی تقریب میں آنے پر وہ ٹی شرٹ اتار کر ایک پلاسٹک کے بیگ میں ڈال دیں۔ ہر بیگ کے اوپر ایک نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ اگر کسی امیدوار کو آپ کی ٹی شرٹ کی خوشبو اچھی لگتی ہے تو وہ اس بیگ کو اٹھا کر ایک قطار میں کھڑا ہوجاتا ہے اور یوں آپ کی ڈیٹنگ کا آغاز ہوتا ہے۔

امیدواروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بنیانوں کو سونگھیں تا کہ وہ صحیح ساتھی کا انتخاب کر سکیں۔

خاموشی ٹوٹتی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ

آج کی شام کے محبت کے متلاشیوں میں کلیئر سیلبی بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنس مخالف کی جانب کشش کے لیے بدن کی خوشو ان کے لیے بہت اہم ہے۔’ میرا خیال ہے جب آپ کسی کو پسند کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ڈیٹ پر جانا شروع کرتے ہیں تو اس کے بدن کے خوشبو بہت اہم ثابت ہوتی ہے۔ آپ ایسے آدمی کے ساتھ زیادہ عرصے تک تعلقات نہیں رکھ سکتے جس کے بدن سے بُو آتی ہو۔ آپ بالکل نہیں چل سکتے ایسے شخص کے ساتھ۔‘

اسی محفل کے ایک دوسرے شریک برُونو میئر کہتے ہیں کہ اس قسم کی شامیں خاموشی کو توڑنے اور کسی اجنبی سے گفتگو کا آغاز کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں کیونکہ یہاں آتے ہی آپ دیکھتے ہیں کہ آپ سمیت ہر کوئی ٹی شرٹ سونگھنے کی ’عجیب حرکت‘ میں مصروف ہے۔

برُونو کا کہنا ہے کہ اچھی ڈیٹنگ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی پسند کی خاتون سے ملاقات کریں۔ آن لائن ڈیٹنگ میں ایسا کرنا ممکن نہیں۔’ میرا خیال کے آن لائن ڈیٹنگ کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ آپ رشتے کے خواہشمند لوگوں کی تصاویر کو ایک البم کی طرح دیکھنا شروع کر دیتے۔ یہ بھی نہیں، یہ بھی نہیں، ہاں یہ ٹھیک ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مجھ سے محبت ہے تو میری شرٹ سے بھی محبت کرو

’جب آپ کسی سے ملاقات کرتے ہیں تو آپ کو اس شخص کو زیادہ جان سکتے ہیں اور ہو سکتا کہ اس کی زندگی کا کوئی ایسا پہلو سامنے آئے جو آپ کو بہت پسند آئے۔‘

ڈیٹنگ کی اس نئی قسم کو دیکھتے ہوئے تو یہی لگتا ہے بات اس مقولے سے آگے نکل چکی ہے کہ ’ مجھ سے محبت ہے تو میری شرٹ سے بھی محبت کرو۔‘

بات ہے ساری کیمسٹری کی

ڈیٹنگ کی ایک ماہر ڈاکٹر کرسٹی ہارٹمین کہتی ہیں کہ آن لائن ڈیٹنگ میں خرابی یہ کی آپ کی توقعات بہت بڑھ جاتی ہیں۔ ’ کسی سے غلط امیدیں باندھ لینے سے بہتر ہے کہ آپ پہلے ہی دیکھ لیں کہ آپ دونوں کے درمیان کوئی ہم آہنگی، کشش یا کیمسٹری پائی جاتی ہے یا نہیں۔‘

ڈاکٹر کرسٹی کے مطابق حقیقت یہ کہ آن لائن ڈیٹنگ میں آپ اپنی پسند کے مرد یا خاتون کو جب پہلی مرتبہ ملتے ہیں تو آپ صرف اس کی شکل اور دوسرے کوائف سے واقف ہوتے ہیں، آپ کو اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں ہوتا۔

’ تو ہوتا یہ ہے آپ خود کو ایک مکمل اجنبی شحض کے ساتھ پاتے ہیں، اس لیے آپ دونوں کے درمیان کوئی کیمسٹری پیدا ہونا مشکل ہی ہوتا ہے۔‘

’کیمسٹری کی کمی‘ کے معاملے کو آکسفرڈ یونیورسٹی کے جنیٹکس کے ایک طالب علم لارینس پلوسکیس بہت سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ لیبارٹری کا سہارا لیا ہے۔

لارینس ایک آن لائن ڈیٹنگ ایجنسی ’لوً جینز‘ کے بانی ہیں اور وہ اپنی ڈیٹنگ ایجنسی کے لیے امیدواروں کے جسمانی یا حیاتیاتی کوائف کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آپ کی پسند، جنسی ہم آہنگی اور ڈیٹنگ کے معاملے میں آپ کے حیاتیاتی کوائف کا کرادر خاصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

’میرا خیال اسی چیز کو ہم کیمسٹری کا نام دیتے ہیں۔ کیمسٹری کوئی ایک چیز نہیں، بلکہ یہ کئی چیزوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ بات کرنے کا انداز، آپ کی گفتگو، آپ کی شخصیت اور آپ کی بیالوجی۔۔۔ کیمسٹری میں سبھی کچھ شامل ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ بھی نہیں، یہ بھی نہیں، ہاں یہ ٹھیک ہے

نفسیاتی علاج کی ماہر سارہ نصیر زادے اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیٹنگ کے لیے حیاتیاتی عناصر پر اس قدر انحصار کا نقصان یہ ہے کہ آپ امیدواروں کے ایک دوسرے سے ملنے ملانے اور پسند یا ناپسند کرنے کے عمل کو متاثر کر دیتے ہیں۔ ’ ایک دوسرے سے میل ملاقات کرنا اور دوسرے کو یہ موقع دینا کہ وہ آپ کو زیادہ سے زیادہ جان سکے، یہ بہت اہم ہوتا ہے۔‘

’لیکن اگر آپ کسی شخص کو پہلی ہی ڈیٹ پر یہ کہیں کہ ’حیاتیاتی نمونوں کے مطابق ہم دونوں کے درمیان کیمسٹری پائی جاتی ہے‘ تو ہوگا یہ کہ آپ وہ ’پہلی ملاقات‘ کیے بغیر ہی تعلقات میں آگے نکل چکے ہوں گے۔

نصیرزادے مذید کہتی ہیں کہ انسانی تعلقات میں سائنس پر اس قدر انحصار کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ لوگ اپنی پسند یا ناپسند کی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔

’حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کسی کے کہنے پر ایک شخص کو پسند کر لیں اور پھر سمجھیں کہ اب تو ہر طرف پھول کھِل اٹھیں گے۔‘

اسی بارے میں