برطانیہ میں گھر پر ایچ آئی وی کے ٹیسٹ کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ notclear
Image caption یہ ٹیسٹ انگلی سے خون کی ایک چھوٹی سی بوند نکال کر اور لعابِ دہن کے نمونے سے کیا جا سکتا ہے

برطانیہ میں قانون میں تبدیلی کے بعد پہلی مرتبہ عوام کو گھر پر خود ایچ آئی وی کی تشخیص کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

تشخیص کے لیے درکار ’کِٹ‘ اب بازار سے بغیر ڈاکٹری نسخے کے خریدی جا سکے گی تاہم برطانیہ میں ابھی تک ایسی کوئی کٹ مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔

اس سے قبل برطانیہ میں لوگ انٹرنیٹ پر آرڈر کر کے گھر پر ٹیسٹ کٹ منگوا سکتے تھے اور نمونے بھیجنے کے بعد انہیں ٹیسٹ کے نتائج فون پر بتائے جاتے تھے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس اقدام سے برطانیہ میں ایسے 25 ہزار افراد کی نشاندہی ہو سکے گی جو ایچ آئی وی پازیٹو ہیں لیکن اب تک ان کی نشاندہی نہیں ہو پائی ہے۔

برطانوی حکومت کے محکمۂ صحت کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’ایچ آئی وی سے منسلک کلنک کی وجہ سے لوگ کلینک میں ٹیسٹ کروانے سے گریز کرتے ہیں حالانکہ ابھی یورپی معیار کی کوئی کٹ برطانیہ میں دستیاب نہیں ہے لیکن امید ہے کہ حالات اگلے سال تک بدلیں گے۔‘

ایچ آئی وی کے گھریلو ٹیسٹ کی گذشتہ سال ستمبر میں ہی حکومت نے منظوری دے دی تھی، لیکن یہ قانون اتوار سے ہی لاگو ہوا ہے۔

تشخیصی کٹ کی مصنوعات میں برطانیہ یورپ میں سب سے آگے ہے، لیکن اس کا آغاز 2012 میں امریکہ میں ہوا تھا۔

یہ ٹیسٹ انگلی سے خون کی ایک چھوٹی سی بوند نکال کر اور لعابِ دہن کے نمونے سے کیا جا سکتا ہے۔

ٹیریس ہگنس ٹرسٹ میں طبی ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل بریڈی نے کہا کہ ’یہ بات شرمناک ہے کہ یہ قانون ایسے وقت عمل میں آیا ہے جب کوئی عملی ٹیسٹ کٹ دستیاب نہیں ہے۔‘

915 صارفین پر کیے گئے ایک سروے سے پتہ چلا کہ 97 فیصد لوگوں نے اسے دوبارہ استعمال کرنے کی بات کی ہے اور ایک ہفتے میں ٹیسٹ کٹ کے لیے 3000 آرڈر ملے ہیں۔

ڈاکٹر بریڈی نے کہا کہ گھر بیٹھے ٹیسٹ کے لیے ایسی رائے برطانیہ میں ایچ آئی وی سے متعلق روک تھام مہم کا ایک اہم مرحلہ ہے۔

اسی بارے میں