موسمی تبدیلی کو روکنے کیلیے متبادل توانائی کا استعمال ضروری: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بات پر کوئی شک نہیں کہ توانائی کی صنعت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانا ضروری ہے: رپورٹ

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمی تبدیلی کو روکنے کے لیے متبادل توانائی کی طرف راغب ہونے کی ضرورت ہے۔

یہ رپورٹ جرمنی کے شہر برلن میں اقوام متحدہ کی انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کی جانب سے تیار کی گئی ہے جس کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی اور اور اس کے اثرات پر ایک شفاف سائنسی رپورٹ مرتب کرے۔

یہ رپورٹ سائنس دانوں اور سرکاری اہلکاروں کے بیچ ایک ہفتہ سے جاری گفتگو کے نتیجے میں جاری ہوئی ہے، جس میں اس بات کی توثیق ہوئی کہ متبادل توانائی کی جانب رخ کرنا اب دنیا کے لیے ضروری ہے۔

کوئلے اور تیل کے استعمال کو کم کرنے کے لیے قدرتی گیس کا کردار خاصا اہم ہے۔ لیکن بحث اب اس بات پر ہے کہ اس توانائی کو مالی معاونت کون فراہم کرے گا۔

اس رپورٹ میں دنیا کی ایک ایسی صورت حال بیان کی گئی ہے جہاں کاربن کا اخراج تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

آئی پی سی سی کے صدر نے برلن میں رپورٹ کی رونمائی پر ایک پریس کانفرنس میں کہا: ’کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی کوششوں کا آغاز اب جلد ہو جانا چاہیے اور اس پر دنیا کے تمام ممالک کو شامل ہونا ہو گا۔‘

1750 سے لے کر اب تک جتنی کاربن فضا میں پھیلائی گئی ہے اس میں سے آدھی پچھلے 40 برسوں میں پھیلائی گئی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2000 سے کوئلے کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جس سے دنیا بھر میں کاربن کے پھیلاؤ کو روکنے کے رجحان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطرہ یہ بھی ہے کہ 2100 تک زمین کی سطح کے درجۂ حرارت میں 3.7 اور 4.8 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ دو ڈگری سے زیادہ کا فرق خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے بعد موسمیاتی تبدیلی کے اثر واضح طور پر نمایاں ہو جاتے ہیں۔

تاہم رپورٹ میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال تبدیل کی جا سکتی ہے: ’اس بات پر کوئی شک نہیں کہ توانائی کی صنعت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانا ضروری ہے۔‘

اسی بارے میں