نیویارک پولیس کی ٹوئٹر مہم الٹی پڑ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ NYPD
Image caption پولیس نے اس اکاؤنٹ کا آغاز منگل کو اس تصویر سے کیا جس میں ایک شخص دو مسکراتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے ساتھ کھڑا ہے

امریکہ کی نیویارک پولیس کی جانب سے اپنا تاثر بہتر کرنے کے لیے ٹویٹر کے استعمال کا منصوبہ اس وقت ناکام ہو گیا جب لوگوں نے پولیس کی جانب سے مبینہ زیادتیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرنا شروع کر دیں۔

نیویارک پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عوام سے پولیس افسران کے ہمراہ ان کی تصاویر اپ لوڈ کرنے کا کہا تھا۔

پولیس نے عوام سے درخواست کی کہ وہ ہیش ٹیگ ’مائی این وائی پی ڈی‘ (myNYPD#) کو ٹیگ کریں۔

لیکن پولیس کے حق میں تصاویر آنے کی بجائے لوگوں نے وہ تصاویر اپ لوڈ کرنا شروع کردیں جن میں مبینہ پولیس تشدد دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption پولیس کے حق میں تصاویر آنے کی بجائے لوگوں نے وہ تصاویر اپ لوڈ کرنا شروع کردیں جن میں مبینہ پولیس تشدد دیکھا جا سکتا ہے

پولیس نے اس اکاؤنٹ کا آغاز منگل کو اس تصویر سے کیا جس میں ایک شخص دو مسکراتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے ساتھ کھڑا ہے۔

کئی افراد نے اس ہیش ٹیگ پر پولیس دوست تصاویر بھی بھیجی ہیں لیکن زیادہ تر پولیس مخالف تصاویر ہی آئی ہیں۔

بدھ کو یہ ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگ گیا تھا۔

ایک تصویر مارچ 2013 کی ہے جس میں پولیس نے ایک شخص کا سر گاڑی پر دبایا ہوا ہے۔ یہ تصویر ان مظاہروں کی ہے جو بروکلن کے علاقے میں 16 سالہ لڑکے کی پولیس فائرنگ میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔

جو تصاویر اپ لوڈ کی گئی ہیں ان میں سے زیادہ تر پیشہ ورانہ فوٹوگرافروں کی لی ہوئی تصاویر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مہم منگل کو شروع کی گئی اور بدھ کو یہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا

اسی بارے میں