انسان دوست ڈرون

تصویر کے کاپی رائٹ FOTOKITE
Image caption بی بی سی اور خبروں کے دیگر ادارے فلم بنانے کے لیے پہلے ہی سے ڈرون استعمال کر رہے ہیں

بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے ہماری فضاوں میں عام ہو رہے ہیں جو تصویر کھنچنے سے لے کر، فصلوں کی نگرانی کا کام کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر انٹرنیٹ مہیا کرنے کے کام بھی آئیں گے۔

لیکن اسے استعمال کرنے کے لیے سخت قوانین ہیں جس کی وجہ سے بعض لوگوں نے اس کے بحفاظت استعمال کے نت نئے طریقے دریافت کیے ہیں۔

کینیڈا کے شہر وینکوور میں ٹیکنالوجی، انٹرٹینمنٹ اور ڈیزائن یا ٹیڈ کانفرنس میں صارفین کے لیے مفید ایک نئے قسم کے ڈرون کی نمائش کرتے ہوئے روبوٹ کے ماہر سرگئی لوپاشین کہتے ہیں کہ’میں ایک چھوٹے ڈرون کے لیے کتے کا پٹا استعمال کر رہا ہوں۔‘

وہ اپنے ڈرون کو رسی کے ذریعے اْڑاتے اور کنٹرول کرتے ہیں۔

انھیں امید ہے کہ وہ اپنے ڈرون کو جسے فوٹوکائٹ کہا جاتا ہے رسی سے باندھ کر اس بغیر پائلٹ کے ڈرون کو پیش آنے والے مسائل سے بچا سکتے ہیں۔

ڈرون پر حفاظتی وجوہات اور لوگوں کی نجی زندگی کی راز داری کی وجہ سے پابندی ہے اور اسے صرف خصوصی لائسنس کے تحت اْڑایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر سرگئی لوپاشین اپنے ڈرون کے متعلق کہتے ہیں کہ’یہ جی پی ایس اور ریڈیو پر انحصار نہیں کرتا اور یہ قطب نما بھی استعمال نہیں کرتا۔ آج کل زیادہ تر ڈرون جی پی ایس میں مسائل کی وجہ سے گرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ’کسی خرابی کی صورت میں ڈرون رسی کی مدد سے اسے چلانے والے کے پاس خود بخود واپس آ جاتا ہے۔‘

انھیں اس ڈرون کا خیال ماسکو کے بولوتانیا چوک میں مظاہروں کے دوران آیا۔ انھیں احساس ہوا کہ ڈرون دنیا بھر میں مظاہروں کی رپورٹنگ کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سرگئی لوپاشین کہتے ہیں کہ’صحافیوں کے لیے کشیدگی میں اضافہ کیے بغیر مظاہروں کی شدت دکھانا اچھا ہوگا۔‘

لیکن ان کے خیال میں پیشہ ور اور شوقین فوٹوگرافر، ماہرِ آثارِ قدیمہ، آرکیٹکچر انجینیئر بھی ڈرون استعمال کر سکتے ہیں اور بچے بھی اسے کھلونے کے طور استعمال میں لا سکتے ہیں۔

ڈرون کو ایک عرصے سے فوجی استعمال کے ساتھ جوڑا جاتا ہے لیکن مختلف کاموں کے لیے اس کو سول استعمال میں لانے کے طور طریقے ایجاد کرنے میں بھی تیزی آ رہی ہے مثال کے طور ترقی پذیر ممالک میں دوائیوں کی رسد، کاشت کاری اور دور دراز علاقوں تک انٹر نیٹ کی رسائی کے لیے اس کا استعمال۔

فیس بک اور گوگل ڈرون کے ذریعے انٹرنیٹ پہنچانے پر کام کر رہے ہیں۔

بی بی سی اور خبروں کے دیگر ادارے فلم بنانے کے لیے پہلے ہی سے ڈرون استعمال کر رہے ہیں لیکن بی بی سی اپنے ڈرون میں مسلسل بہتری لا رہی ہے۔

اینڈی آرم سٹرانگ نے جو براڈ کاسٹ ٹیکنالوجی کے ماہر ہے حالیہ دنوں میں فوٹوکائٹ کو بی بی سی کے لیے ٹیسٹ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا ساتھ لے جانے میں آسانی اور سادہ استعمال اسے صحافیوں کے لیے فیلڈ میں مفید بناتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’جو بندہ کتے کو پیدل ساتھ چلنے کے لیے لے جا سکتا ہے وہ فوٹو کائٹ کو چلا سکتا ہے۔‘

لیکن رسی کی وجہ سے یہ پتہ چلنا کہ ڈرون کہاں سے کنٹرول ہو رہا ہے ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اینڈی آرم سٹرانگ کہتے ہیں کہ’ایسے مواقع ہونگے جہاں آپ نہیں چاہیں گے کہ لوگوں کی توجہ آپ کی طرف ہو۔‘

بی بی سی کے ایک پروگرام مینیجر جیک برجر ایک ایسا ڈرون چاہتے تھے جس کے ذریعے ایک کھلی فضا میں ہونے والے تھیٹر شو کی بحفاظت فلم بنائی جا سکے۔

اینڈی آرم سٹرانگ کہتے ہیں کہ’فوٹوکائٹ کو رسی کی مدد سے اڑایا جاتا ہے تو یہ ہمیں موزوں لگا۔‘ لیکن جس دن ہم اس کے ذریعے فلم بنا رہے تھے اس دن چھ گھنٹوں تک مسلسل بارش ہوئی۔‘

انھوں نے کہا کہ اس دن برطانیہ کے موسم نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا۔

’بارش کی وجہ سے فوٹوکائٹ کے برقی آلات اڑ جاتے اور اس پر آسمانی بجلی گرنے کا بھی خطرہ تھا۔‘

امریکہ میں فیڈرل ایویئیشن اتھارٹی (ایف اے اے) کی طرف سے کمرشل ڈرونز پر پابندی ہے اور اس کے استعمال کے لیے خصوصی لائسنس لینا پڑتا ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ رسی کے ذریعے ڈرون اڑانے پر پابندی ہے یا نہیں۔

ایسوسی ایسشن فار ان مینڈ ویحکلز سسٹم انٹرنیٹ کے جنرل کونسلر بن گائلو کے مطابق رسی کے ذریعے ڈرون اڑانا بھی غیر قانونی ہوگا۔

امریکی کانگریس نے ایف اے اے کو ڈرون کے استعمال کے حوالے سے ضابطے بنانے کے لیے سنہ 2015 تک وقت دیا ہے لیکن ابھی تک امریکہ میں ڈرون کے استعمال کے حوالے سے کوئی چیز واضح نہیں ہے۔

اسی بارے میں