کچھ یادیں رہ جاتی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جنھیں اچھی یادیں نہیں رہتیں، وہ دراصل شدید ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں

ہمیں کچھ باتیں کیوں یاد رہتی ہیں اور کچھ بھول جاتی ہیں؟

محققین کا خیال ہے کہ ہماری اچھی یادیں بری یادوں کی نسبت زیادہ عرصہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں تاکہ انسانی نسل خوش رہے اور برے حالات کا مقابلہ کر سکے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اپنی اچھی یادوں کو پکڑے رکھنا اور بری یادوں سے دامن چھڑا لینا ہمیں ناخوشگوار حالات سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے اور یوں ہم زندگی کو ایک مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔

آج سے تقریباً اسًی سال پہلے یہ نظریہ پیش کیا گیا تھا کہ انسان اپنی منفی یا تلخ یادیں جلد بھول جاتا ہے۔ سنہ 1930 میں ماہرین نفسیات نے لوگوں سے ان کی زندگی کے واقعات اکھٹے کیے اور انہیں اچھی اور بری یادوں میں تقسیم کیا۔ کئی ہفتوں بعد ماہرین نے اچانک ان لوگوں سے دوبارہ بات کی اور کہا کہ وہ اپنی یادیں دُھرائیں۔ تجربے سے معلوم ہوا کہ لوگ اپنی 60 فیصد بری یادیں بھول چکے تھے جبکہ اچھی یادوں میں سے وہ صرف 42 فیصد بھولے تھے۔

لگتا ہے کہ ان نتائج سے ہم سب مانوس کیونکہ جب ہم تعطیلات گذارنے کے بعد واپس آتے ہیں تو شروع شروع میں ہمیں یاد ہوتا ہے کہ ہماری فلائیٹ کتنی بری تھی لیکن ان چھٹیوں میں ہم جن چیزوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور جن لوگوں سے ملتے ہیں، انھیں ہم بہت عرصے تک نہیں بھولتے۔

اس ابتدائی نفسیاتی تجربے کے بعد کئی اور تجربات بھی کیےگئے اور ماہرین نے ناخوشگوار واقعات کو بھول جانے کی انسانی عادت کو باقاعدہ سائنسی نظریے کے طور پر قبول کرنا شروع کر دیا۔ اس لیے سنہ 1970 کی دہائی میں ماہرین نے لوگوں سے صرف ان کی یادوں کی بات نہیں کی بلکہ انھیں تجربات میں حصہ لینے والے افراد سے کہا کہ وہ ڈائری میں ہر واقعہ لکھیں اور یہ بھی لکھیں کہ اس یاد کے بارے میں وہ کس قدر جذباتی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شروع شروع میں ہمیں یاد ہوتا ہے کہ ہماری فلائیٹ کتنی بری تھی

لیکن چونکہ اس عرصے میں کی جانے والی 80 فیصد تحقیقات امریکہ میں ہو رہی تھیں، اس لیے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دیگر ممالک اور تہذیبوں میں رہنے والے لوگ بھی اپنی بری یادیں جلد بھول جاتے ہیں یا نہیں۔

تحقیق میں اس بظاہر کمی کو دور کرنے کے لیے یونیورسٹی آف آئرلینڈ کے محقق ٹمُوتھی رچی نے دنیا کے مختلف ممالک کی ساٹھ یونیورسٹیوں کے ماہرین سے درخواست کی کہ وہ انھیں اپنے اپنے اعداد و شمار اور تجربات کی تفصیل بتائیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ آیا دنیا بھر میں تمام لوگ اچھی باتیں زیادہ عرصے تک یاد رکھتے ہیں یا نہیں۔

اس طویل تجربے کے بعد ٹموتھی اور ان کے ساتھیوں پر یہ واضح ہوا کہ یہ بات صرف امریکیوں تک محدود نہیں بلکہ تمام لوگ اچھی یادوں کی نسبت اپنی بری یادوں کو جلد بھول جاتے ہیں۔ مذید تجربات میں ماہرین کو معلوم ہوا کہ وہ لوگ جنھیں اچھی یادیں یاد نہیں رہتیں، وہ دراصل شدید ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں