کوکاکولا کا متنازع کیمیکل نکالنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کوکاکولا کا کہنا ہے کہ حفظانِ صحت اور معیار ان کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں

مشروبات بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کوکا کولا نے کہا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک اپنی بعض مصنوعات سے ایک متنازع کیمیائی مادہ نکال دیں گے۔

یہ فیصلہ انھوں نے ایک آن لائن پیٹیشن کے بعد کیا ہے۔

کوکا کولا کے فروٹ اور سپورٹس ڈرنکس مثلاً فینٹا اور پاورایڈ میں برومین پر مشتمل سبزیوں کا تیل یا ’بی وی او‘ (برومینیٹڈ ویجٹیبل آئل) پایا جاتا ہے۔

بعض کارکنوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ بی وی او صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کوکاکولا کی حریف مشروب کمپنی پیپسی نے اپنے سپورٹس ڈرنکس سے اس کیمیائی مادے کو ہٹا دیا تھا۔

پیپسی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ان کا اپنے مشروبات سے بی وی او ختم کرنے کا وسیع منصوبہ ہے اور وہ ’اسے اپنی تمام مصنوعات سے ہٹانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔‘

پیپسی اس جزو کا استعمال اپنے ماؤنٹین ڈیو اور ایمپ اینرجی ڈرنکس میں کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پیپسی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اپنے مشروب سے بی وی او کے استعمال کو ختم کرنے کا ان کا وسیع تر منصوبہ ہے

کوکاکولا کے ترجمان جاش گولڈ نے زور دے کر کہا کہ بی وی او کو اس لیے نہیں ہٹایا جا رہا ہے کہ اس سے حفظانِ صحت کا کوئی مسئلہ وابستہ ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا: ’ہمارے تمام مشروبات، بشمول ان کے جن میں بی وی او شامل ہے، محفوظ ہیں اور ہمیشہ محفوظ رہے ہیں اور جن ممالک میں ان کی فروخت کی جا رہی ہے یہ وہاں کے ضابطوں کے مطابق ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’حفظانِ صحت اور معیار ہماری مصنوعات کی اہم ترین ترجیحات ہیں۔‘

واضح رہے کہ بی وی او پھلوں کے ذائقے والے مشروبات بنانے میں بطور اضافی جزو استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم صحت کے متعلق خدشات اس بات سے پیدا ہوتے ہیں کہ اس کے اندر برومین شامل ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

میو کلینک کے طبی محققوں کا کہنا ہے کہ بی وی او والے سافٹ ڈرنکس کے حد سے زیادہ استعمال سے صحت پر خراب اثرات پڑتے ہیں جن میں یاداشت کم ہونا اور جلدی و اعصابی بیماریاں شامل ہیں۔

اسی بارے میں