کیا ہم سب 95 سالہ ایتھلیٹ بن سکتے ہیں؟

Image caption پچانوے سالہ اولگا کوٹیلکو اب تک 750 طلائی تمغے جیت چکی ہیں

کیا ہم سب 95 سالہ ایتھلیٹ بن سکتے ہیں؟

امیر ملکوں میں لوگوں کی عمروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا طویل عمر اچھی چیز ہے بھی یا نہیں؟

جب ان سے 60 سال چھوٹے لوگ لمبی چھلانگیں لگا رہے ہوں اور نیزے پھینک رہے ہوں تو 95 سالہ اولگا کوٹیلکو کا الگ تھلگ بیٹھنا سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن پانچ فٹ اونچی یہ کینیڈین خاتون الگ تھلگ بیٹھنے کی بجائے میدان کے وسط میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کو ترجیح دیتی ہیں۔

اسی برس انھوں نے ورلڈ ماسٹرز ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں تیز دوڑ، ہائی جمپ، لانگ جمپ اور ٹرپل جمپ کے مقابلوں میں حصہ لے کر معمر ترین ایتھلیٹ کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ان کے پاس اس طرح کے 30 ریکارڈ ہیں اور وہ اب تک 750 طلائی تمغے جیت چکی ہیں۔

تاہم اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو غیرمعمولی انسان نہیں بلکہ ایک عام خاتون سمجھتی ہیں۔ جب ان سے ان کے راز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتی ہیں کہ میرا کوئی راز نہیں ہے: ’میرا خیال ہے کہ عمر صرف ایک ہندسہ ہے۔ سالگرہوں کی بجائے آپ کا زندگی گزارنے کا طریقہ فرق پیدا کرتا ہے۔ آپ کا رویہ سب سے اہم چیز ہے۔‘

تو پھر کیا ہم سب نوے سالہ ایتھلیٹ بن سکتے ہیں، یا پھر ہمارے مقدر میں بڑھاپا، معذروری اور تنزل ہی لکھا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

امیر ملکوں میں رہنے والوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ برطانیہ کی نیوکاسل یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہر گزرنے والے 24 گھنٹوں میں ان ملکوں کے باشندوں کی زندگیوں میں پانچ گھنٹوں کا اضافہ ہو رہا ہے، یعنی ہر سال میں دو مہینے، یا ہر عشرے میں کم از کم دو سال۔ اس کی بڑی وجہ طبی سائنس کی ترقی اور بہتر سہولیات کی فراہمی ہے۔

1980 کے عشرے کے بعد سے برطانیہ میں سو سال سے زیادہ عمر والے افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر چوتھا برطانوی اپنی سوویں سالگرہ منانے کی امید رکھ سکتا ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ عمر کوئی ناقابلِ عبور رکاوٹ نہیں ہے۔ اگر اولگا کے جین انھیں اس عمر میں بھی چست رکھے ہوئے ہیں تو ہم بھی اپنے جینز کے غلام نہیں ہیں۔ تازہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں پیدائش کے وقت جو جین ورثے میں ملتے ہیں اور ہماری طول عمری میں صرف ایک چوتھائی کردار ادا کرتے ہیں۔ یعنی ہم اچھا طرزِ زندگی اپنا کر زیادہ لمبا عرصہ جی سکتے ہیں۔

اس اچھے طرزِ زندگی کا ایک جانا پہچانا پہلو تو اچھی خوراک اور باقاعدہ ورزش ہے، لیکن اس کے علاوہ کچھ اور نسبتاً کم معروف چیزیں بھی ہیں جو لوگوں کو بڑھاپے میں بھی اچھی زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔

نیوکاسل یونیورسٹی کے ڈاکٹر لِن کورنر کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ بوڑھا ہونا ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ زوال آنا لازمی نہیں ہے۔

’سچ تو یہ ہے کہ عمر کے مسئلے کا کوئی واحد جواب نہیں ہے۔ یہ زندگی گزارنے کے طریقوں، ورزش اور اچھی خوراک کا مجموعہ ہے۔‘

سائنس دانوں کو توقع ہے کہ وہ جاپان کا مشاہدہ کر کے طولِ عمر کے بارے میں مزید سراغ پا سکتے ہیں۔

جاپان میں دنیا کے سب سے زیادہ معمر افراد رہتے ہیں اس لیے اس ملک کو صحت مندانہ زندگی کا ماڈل تصور کیا جاتا ہے۔

پروفیسر کورنر کہتے ہیں: ’غالباً اس کی وجہ یہ کہ جاپانی خوراک میں مچھلی اور سبزیوں کی بہتات ہوتی ہے، وہ یوگا اور دوسری ورزشیں کرتے ہیں اور مغربی ممالک کی نسبت کم سگریٹ اور شراب پیتے ہیں۔‘

لیکن ان چیزوں کے علاوہ طویل عمری کے لیے کئی چیزیں بھی کام کرتی ہیں۔ ایسٹن یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیرل ہالینڈ کہتی ہیں کہ حالیہ برسوں میں ایک حیران کن بات سامنے آئی ہے کہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا بھی عمر میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ ادھیڑ عمری میں نئی دوستیاں بنانے سے بڑھاپے میں پیدا ہونے والی کمزوری کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ہالینڈ کہتی ہیں: ’طویل عمری پر ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ آپ کے 50 تا 60 برس کی عمر میں جتنے زیادہ دوست ہوں گے، بعد کی زندگی میں آپ اتنی ہی کم تنہائی کا شکار ہوں گے۔‘

برطانیہ میں اسی موضوع پر ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ سماجی تنہائی کے شکار افراد کی عمریں ایسے لوگوں کے مقابلے پر کم ہوتی ہیں جو دوستوں اور رشتے داروں میں گھرے ہوئے ہوں۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر آپ کے آپ کے اردگرد دوست اور عزیز موجود ہیں تو وہ آپ کی صحت کا خیال رکھتے ہیں اور اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنے یا ہسپتال تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔

لیکن یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر اینڈریو سٹیپ ٹو ایسی تحقیق کا حصہ رہے ہیں جس میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ انسانی جسم کی حیاتیات اور تنہائی میں ایسا تعلق بھی ہے جو اب تک پورے طور پر نہیں سمجھا گیا۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ ڈپریشن سے بچنے کے لیے خاندان کے افراد کے ساتھ گزارے گئے وقت کے مقابلے پر دوستوں کے ساتھ گزارا گیا وقت زیادہ اہم ہے۔

جیسا کہ اولگا کے مثال سے واضح ہوتا ہے، مثبت سوچ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ییل یونیورسٹی کے ڈاکٹر بیکا لیو نے دریافت کیا کہ کہ مثبت خیالات رکھنے والے افراد زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی یادداشت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ لیکن ایڈنبرا یونیورسٹی کے پروفیسر ایئن ڈیئری کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں ہے۔ یادداشت کی بعض اقسام وقت کے ساتھ بہتر ہوتی جاتی ہیں، مثلاً معلوماتِ عامہ اور ذخیرۂ الفاظ۔ پروفیسر ڈیئری کہتے ہیں: ’عمومی طور پر بڑھاپے میں آپ کو نوجوانوں سے زیادہ معلومات ہوں گی، صرف یہ ہے کہ آپ نئی معلومات اتنی جلدی حاصل نہیں کر سکتے۔‘

اور ڈاکٹر کورنر کہتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ بڑھاپا بیماری اور معذوری ہی لے کر آئے۔ برطانیہ میں کی جانے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمر افراد کی اکثریت خوش و خرم اور خودمختار زندگی گزار رہی ہے۔

نیوکاسل یونیورسٹی نے 85 سالہ افراد کا ایک سروے کیا جن کی اکثریت نے کہا کہ ان کی صحت ’عمدہ سے لے کر زبردست‘ ہے۔ حالانکہ ان میں سے کئی کو تین تین بیماریاں لاحق تھیں اور وہ دن میں دس مختلف ادویات لے رہے تھے۔

فلاحی ادارے ’ایج یوکے‘ کے پروفیسر جیمز گڈوِن کہتے ہیں: ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھاپے کے بارے میں ہمارے خیالات بدل رہے ہیں۔ 85 سال سے بڑی عمر کے لوگ ہمیں بتا رہے ہیں کہ دائمی بیماریوں کے باوجود وہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ ہیں اور اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔‘

حتیٰ کہ برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ ہم 65 تا 80 سال کی زندگی میں سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں۔

لیکن اولگا کو ان کا دسویں عشرہ بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر پا رہا۔ ان کا کہنا ہے: ’اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ کون کہتا ہے کہ آپ کو ایک جگہ پہنچ کر رک جانا چاہیے؟ میں اس وقت تک چلنا جاری رکھوں گی جب تک گر نہیں پڑتی۔ یہی میرے سفر کا انجام ہو گا۔‘