انمارسیٹ کی طیاروں کی مفت نگرانی کی پیشکش

انمارسیٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ چھوٹا سا آلہ وقفے وقفے سے سیٹی نما آواز میں ایسے سگنل جاری کرتا ہے جو سیٹیلائٹ کے ذریعے اس جگہ کے بارے میں بتا دیتا ہے جہاں سے سگنل جاری ہو رہے ہوں

ایک برطانوی سیٹیلائٹ کمپنی نے دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کو ان کے طیاروں کی نقل و حرکت کی مفت نگرانی کی پیشکش کی ہے۔

یہ پیشکش ملائیشیا ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کو پیش آنے والے سانحے کے بعد کی گئی ہے۔ ملائیشیا ایئر لائن کا طیارہ آٹھ مارچ کو دوران پرواز لاپتہ ہو گیا تھا اور ابھی تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

یہ برطانوی ادارہ سیٹیلائٹ آپریٹر انمارسیٹ ہے اور ملائیشیا کے گمشدہ طیارے کی تلاش کا کام کرنے والوں نے بحرِ ہند میں اب تک لاپتہ طیارے کے ملبے کے بارے میں جو کچھ معلوم کیا ہے وہ بھی انمارسیٹ کے ایک چھوٹے سے آلے کی مدد سے ممکن ہوا ہے۔

یہ چھوٹا سا آلہ وقفے وقفے سے سیٹی نما آواز میں ایسے سگنل (pings) جاری کرتا ہے جو سیٹیلائٹ کے ذریعے اس جگہ کے بارے میں بتا دیتے ہیں جہاں سے سگنل جاری ہو رہے ہوں۔

انمارسیٹ کا کہنا ہے کہ اس مفت سروس کے ذریعے کسی بھی حادثے کی صورت میں یقینی طور پر مدد دے سکنے والی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

یہ آلہ ہر 15 منٹ کے بعد انمارسیٹ نیٹ ورک پر عالمی پوزیشنگ سسٹم، یعنی جی پی ایس کی مدد سے طیاروں کے مقام، رفتار اور رخ کے بارے میں بھی معلومات دے سکتا ہے۔

انمارسیٹ کے سینیئر نائب صدر کرس میکلاگلن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہمارا یہ آلہ اب تک دنیا کے 90 فیصد وائڈ باڈی جیٹ طیاروں میں موجود ہے اور اس کا اس صنعت پر کوئی مالی بوجھ بھی نہیں پڑا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ لاگت یا مالی مصارف ہی بعض اوقات وہ سبب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے فضائی کمپنیاں اوقات سیٹیلائٹ ٹریکنگ کے آلے کو استعمال کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔

لندن سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی نے یہ پیشکش ایسے موقعے پر کی ہے جب عالمی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) طیاروں کا سراغ لگانے کے بارے میں عالمی کانفرنس کا انعقاد کرنے والی ہے۔ یہ کانفرنس پیر کو کینیڈا کے شہر مونٹریال میں ہو رہی ہے۔

آئی سی اے او اور عالمی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے یا ایاٹا) اس کوشش میں ہیں کہ ملائشیا کے لاپتہ طیارے کے بارے میں مناسب ترین ردِ عمل کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ ایاٹا عالمی ایئر لائنوں کی تجارتی تنظیم ہے۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ لاپتا ملائیشیائی بوئنگ 777طیارے کا جس نظام کے ذریعے کوئی سراغ مل سکتا تھا، اُسے طیارے کے کاک پٹ میں جان بوجھ کر ناکارہ بنا دیا گیا تھا اور جیسے ہی طیارہ ریڈار کی حدود سے باہر نکلا، اس کے سراغ بھی معدوم ہو گئے۔

تحقیق کرنے والوں کو طیارے کے آثار کے بارے میں جو سگنل ملے وہ طیارے میں موجود انمارسیٹ کے آلے سے ہر گھنٹے کے بعد جاری ہونے والے وہ اشارے تھے جو وہ گراؤنڈ سٹیشن کے لیے از خود اس لیے جاری کر رہا تھا کہ سیٹیلائٹ سے رابطہ برقرار ہے یا نہیں۔

انمارسیٹ کا مجوزہ آلہ ہرگز بھی مثالی نہیں کہلا سکتا، لیکن اس سے یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس سے جاری ہونے والی معلومات تمام ہی مسافروں کے ذریعے بھی جاری ہو رہی ہوں گی۔ یعنی کسی ایک جگہ سے انھیں معطل یا ناکارہ نہیں بنایا جا سکے گا۔

اس سیٹیلائٹ کے سالانہ اخراجات 30 لاکھ امریکی ڈالر ہیں جو ادارہ خود برداشت کرے گا۔ ادارہ یہی خدمات بحری جہازوں کو بھی پیش کر چکا ہے اور اب مشکل میں آنے والے بحری جہازوں کے پیغامات بلا معاوضہ متعلقہ نیٹ ورکس کو موصول ہوتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنا معاوضہ تب لے گی جب فضائی اور بحری ادارے کمپنی کی پریمیئم سروس استعمال کرنا پسند کریں گے۔ جہاں تک بنیادی سروس ہے وہ بلامعاوضہ یعنی مفت ہی رہے گی۔

اسی بارے میں