’گوگل اپنے سرچ رزلٹ میں تبدیلیاں کرے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گوگل اس فیصلے پر حیران اور پریشان ہے

یورپی یونین کی اعلٰی عدالت نے گوگل کو حکم دیا ہے کہ اسے ’رائٹ ٹو بی فورگاٹن‘ یا ’بھلا دیے جانے کے حق‘ کے تحت عام لوگوں کی درخواست پر اپنے سرچ رزلٹس میں کچھ تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔

یورپی یونین کی عدالتِ انصاف کا کہنا ہے کہ لوگوں کی درخواست پر’غیر متعلقہ اور پرانے‘ ڈیٹا کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔

یہ معاملہ سپین کے ایک شہری کی درخواست پر عدالت میں آیا ہے جس کا کہنا ہے کہ اس کے مکان پر نیلامی کا جو نوٹس لگا ہے وہ گوگل سرچ میں دکھائی دے رہا ہے اور یہ اس کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی ہے۔

منگل کو لگزمبرگ میں فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اپنے ذاتی ڈیٹا کو کنٹرول کرنے پر لوگوں کا حق سب سے پہلے ہے۔

گوگل نے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ گوگل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں پر غور کرنے کے لیے کمپنی کو وقت چاہیے۔

سرچ انجن کا کہنا ہے کہ وہ ڈیٹا کنٹرول نہیں کرتا وہ صرف ان لِنکس کی نشاندہی کرتا ہے جو انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ ماضی میں گوگل اس قسم کا ڈیٹا ہٹانے کو سنسر شپ کے مترادف قرار دیتا رہا ہے۔

’رائٹ ٹو بی فورگاٹن‘ یعنی ’بھُلا دیے جانے کے حق‘ کے حامی اس فیصلے پر بہت خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یورپ کے لوگوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

گوگل اس قانونی لڑائی کے ابتدائی مراحل میں کامیاب رہا تھا تاہم اب اس فیصلے پر حیران اور پریشان ہے۔ابھی یہ واضح نہیں کہ سرچ کمپنیاں اس بارے میں کیا کر سکتی ہیں۔

اسی بارے میں