فضائی کے بعد زمینی قاتل

روبوٹ ٹینک تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مشین گن اور کیمروں سے مسلح روبوٹ ٹینک 800 میٹر دور بیٹھ کر ریموٹ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے

پائلٹوں کے ذریعے چلائے جانے والے طیاروں کے مقابلے میں اپنے مقاصد میں زیادہ کامیابی حاصل کرنے والے بلا ہواباز ڈرون طیاروں کے بعد ایسے ٹینکوں کی تیاری پر توجہ دی جا رہی ہے جن میں کسی چیز کو تباہ کرنے یا کسی کو مارنے کا فیصلے انسان نہیں کیمرے کریں گے۔

ان مغربی ملکوں میں جہاں اس ایجاد پر کام کیا جا رہا ہے، وہاں شاید اس کی اتنی ضرورت اور افادیت نہ ہو لیکن ان ملکوں جہاں فوجی کارروائیاں کی جا رہی ہیں یا جہاں پولیس اور فوج کو اکثر قانون نافذ کرنے اور حکومتوں کی رٹ قائم کرنے کے لیے مصروف رہنا پڑتا ہے یہ ایجاد کتنی کارآمد ہو گی۔

اس صورت میں اگر کوئی ایسا ٹینک بن جائے جو اپنا راستہ خود متعین کرے، کہیں دور موجود ریموٹ یا اندر موجود پروگرام کے تحت اپنے ہدف کا تعین کرے اور خود ہی اُس سے نمٹنے کا فیصلہ کرے تو نتائج کیا ہوں گے۔

بی بی سی نیوز بزنس رپورٹر ٹم باؤلر نے ایسے ہلاکت خیز روبوٹس کی تیاری کے بارے میں بتایا ہے جو ٹینک نما ہیں۔ وہ اس کا منظر کھینچتے ہیں۔

ٹینک نما روبوٹ اپنے راستے اور چھوٹی موٹی رکاوٹوں پر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اچانک وہ رکتا ہے اور اُس کی مشین گن دور دکھائی دینے والی ایک انسانی تصویر پر گولیاں برسانا شروع کر دیتی ہے۔ اس کا نشانہ انتہائی درست ہے۔

اسے بہت سے لوگ سائنس فکشن تصور کر سکتے ہیں لیکن کیا ماضی کا بہت سا سائنس فکشن آج کی حقیقت میں شامل نہیں ہے؟

ابھی تک کھلونا قرار دیا جانے والا یہ ایک میٹر لمبا ٹینک کنٹیک نارتھ امریکہ نامی ادارے نے بنایا ہے۔ یہ ادارہ اس سے پہلے ایسی مشینیں بنا چکا ہے جو کسی آدمی کے بغیر اڑتی، تیرتی اور چلتی ہیں اور دنیا کے 90 ملکوں کی افواج سمیت کئی ادارے انھیں استعمال کر رہے ہیں۔

اس شعبے میں تحقیقات کرنے والے آئی ایچ ایس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ اگلے دس سال میں یہ شعبہ ایک ایسی صنعت کی شکل اختیار کر جائے گا جس کی مالیت 98 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو گی لیکن ان مصنوعات کا تیار کرنے والا بھی امریکہ ہو گا اور سب سے بڑا استعمال کرنے والا بھی۔

آئی ایچ ایس کے ڈیرک میپل کا کہنا ہے: ’اور بھی کئی ملک ہیں جو انسانوں کے بغیر چلنے والی گاڑیاں اور مشینیں بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘

کنٹیک جو روبوٹ ٹینک تیار کر رہی ہے ان کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ انھیں ایسے مقامات اور صورتوں میں استعمال کیا جا سکے جہاں فوجیوں یا سپاہیوں کو بھیجنے میں جانی خطرات زیادہ ہوں۔

ان ٹینکوں میں دستی بموں اور مشین گن سے محفوظ رہنے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس ادارے کا تیار کردہ جدید ترین ماڈل ’انتہائی تباہ کن‘ قرار دیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک یہ پوری طرح انسان سے آزاد نہیں ہے۔

ابھی اسے چلانے والا فوجی یا سپاہی آٹھ سو میٹر کے فاصلے پر رہ کر اسے ریموٹ سے کنٹرول کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کہا جاتا ہے کہ صرف 2004 کے دوران پاکستان میں ڈرون حملوں کے سبب 2500 افراد ہلاک ہوئے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ اس شعبے پیش رفت سے مصنوعی ذہانت میں ترقی کی تاریخ ایک صفحہ آگے ضرور بڑھے گی۔ جب کہ دوسروں کا کہنا ہے کہ انسان کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ مصنوعی ذہانت نے بہت ترقی کی تو دس ایک سال میں زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ٹرمینیٹر کا ایک بھونڈا پیشرو بنا لیا جائے گا۔

ایسے خودکار ہتھیار تو بن ہی چکے ہیں جو ہدف تک پہنچ کر کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

ایک آزاد دفاعی تجزیے کار پال بیور کا کہنا ہے ’یہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی طرح ہے، اس میں ہونے والی پیش رفت کو پلٹایا نہیں جا سکتا۔ خطرہ یہ ہے کہ یہ کسی بدمعاش ملک کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اُس مرحلے سے ابھی ایک دہائی دور ہیں جب منظم جرائم پیشہ تنظیمیں ایسے نظاموں پر دسترس حاصل کر کے انھیں دہشت گرد گروہوں کو فروخت کرنے لگیں گی۔

لیکن اس کے باوجود اس ماہ کے اوائل میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں 117 ممالک کے نمائندوں نے ایسی ایجادات پر پابندی لگائے جانے پر غور کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption روبوٹ ٹینک جسے روبوٹ کلر یا قاتل کا نام دیا جا رہا ہے، اس کے خلاف ابھی سے مہم شروع ہو گئی ہے

اسی بارے میں