پناہ گزینوں کو کینسر کے علاج میں مدد کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تارکین وطن کی بڑی تعداد کی وجہ سے میزبان ممالک پر بہت بار آگیا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں قیام پذیر پناہ گزینوں میں کینسر کے علاج کے لیے بہت زیادہ مطالبات سامنے آتے ہیں تاہم ان کا پورا کیا جانا کافی کٹھن ہے۔

اب تک پناہ گزینوں کی صحت کے لیے کام کرنے والوں کے پیش نظر متعدی اور وبائی امراض کے علاوہ غذائیت کی کمی رہا کرتی تھی اور وہ ان شعبوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے تھے۔

تاہم اب اقوام متحدہ کے ہائی کمیشنر برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کو پناہ دینے والے ممالک کا کہنا ہے کہ کینسر ایک اہم مسئلہ ہے۔

انھوں نے یہ بات ’لانسیٹ آنکولوجی‘ نامی جریدے میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فنڈنگ کی اختراعی سکیموں اور پناہ گزین کیمپوں میں سکریننگ کی سہولیات سے اس ضمن میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر پال سپیگل کی سربراہی میں ایک ٹیم نے یواین ایچ سی آر کی محضوص کیئر کمیٹی (ای سی سی) کے تحت امداد کے لیے دی جانے والی درخواستوں پر غور کیا۔

ای سی سی نے سنہ 2010 اور 2012 کے درمیان اردن میں مقیم پناہ گزینوں کی جانب سے علاج کے لیے دی جانے والی 1989 درخواستوں کا تجزیہ کیا۔

ان میں سے تقریبا ایک چوتھائی (511) درخواستیں کینسر کے علاج کے لیے تھیں۔ اور ان میں بھی چھاتی اور کولوریکٹل یا قولون کینسر سب سے عام تھے۔

ان میں سے نصف معاملوں کو منظور کیا گیا اور ان کے لیے تعاون دیا گیا۔ انھیں معاملات میں درخواستوں کو مسترد کیا گیا جہاں مرض میں اضافے کی خراب پیش گوئی کی گئی تھی یا پھر علاج زیادہ مہنگا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روایتی طور پر پناہ گزین آبادیوں میں وبائی امراض اور خوراک کی کمی پر توجہ مرکوز رہا کرتی تھی

کسی فرد واحد کے لیے سب سے زیادہ منظور کی جانے والی رقم 4626 امریکی ڈالر تھی جو کہ سنہ 2011 میں منظور کی گئی جبکہ سنہ 2012 میں منظور کی جانے والی خطیرترین رقم 3501 امریکی ڈالر تھی۔

ڈاکٹر سپیگل نے کہا: ’مشرق وسطی کے ممالک نے پہلے عراق سے اور پھر شام سے لاکھوں پناہ گزینوں کا اپنے ملکوں میں خیر مقدم کیا۔

’اس زبردست ترک وطن نے ہر سطح پر صحت کے شعبے کو متاثر کیا ہے اور اس پر غیرموزوں طور پر زبردست دباؤ آیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’بین الاقوامی تنظیموں اور مخیر حضرات سے ملنے والی امداد کے باوجود علاج کی سہولیات میں اضافے اور انفرادی لوگوں کو دواؤں کے لیے امداد دینے کے لیے رقم ناکافی رہی ہے۔ ان اخراجات کا بار مہمان نواز ممالک پر آن پڑا ہے۔‘

مثال کے طور پر اردن کی وزارت صحت نے سنہ 2013 کے پہلے چار مہینوں کے دوران پناہ گزینوں کی طبی امداد کے لیے پانچ کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر فراہم کرایا۔

اس رپورٹ کے مصنفین نے پناہ گزین کیمپوں میں کینسر سے حفاظت کے بہتر انتظامات اور علاج کی بات کہی ہے۔

ڈاکٹر سپیگل نے کہا: ’اب تک انسانی بحران کا تجربہ بنیادی طور پر افریقہ میں سہارا کے ذیلی علاقوں کے ممالک کا تھا جہاں وبائی امراض اور خوراک کی کمی ترجیحات میں شامل تھیں لیکن اب 21 وی صدی میں پناہ گزین آبادی زیادہ دنوں تک رہتی ہے اور متوسط آمدنی والے ممالک اس کی زد میں ہیں جہاں کینسر جیسے پرانے امراض زیادہ ہیں۔‘

اسی بارے میں