’میرس وائرس اونٹ سے انسان میں منتقل ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ابھی اب تک حتمی طور پر معلوم نہیں کہ وائرس کہاں سے آیا، لیکن خیال ہے کہ یہ سعودی عرب میں اونٹوں سے انسانوں میں پھیلا ہے

ڈاکٹروں کے خیال میں انھیں ایسے شواہد حاصل ہو گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خطرناک میرس وائرس اونٹوں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

سعودی عرب اب تک میرس یعنی مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس وائرس کی زد میں سنہ 2012 سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 204 تک پہنچ گئی ہے۔

سعودی عرب کی حکومت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پراسرار ’میرس‘ وائرس سے بچنے کے لیے اونٹوں کے قریب جاتے وقت ہاتھوں میں دستانے اور منھ پر ماسک پہنیں۔

سعودی شہریوں کو اونٹوں سے دور رہنے کا مشورہ

معروف طبی جریدے نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سعودی عرب میں ایک اونٹ اور اس کے ہلاک ہونے والے 44 سالہ مالک میں پائے جانے والے وائرس کے نمونے یکساں تھے۔

اس شخص کا علاج جدہ کے کنگ عبدالعزیز ہسپتال میں کیا گیا تھا۔ اس شخص کے نو اونٹ تھے اور اونٹوں کے بیمار ہونے کے فوراً بعد یہ شخص خود بھی بیمار ہو گیا تھا۔

ہلاک ہونے والے شخص کو دی جانے والی ادویات کے نسخوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے اونٹ کا علاج کرنے کے لیے اسے ناک کے ذریعے دوا کے قطرے دیے تھے۔

اس شخص میں پائے جانے والے وائرس اور اونٹ میں پائے جانے والے وائرس کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ دونوں انفرادی نمونوں سے لیے جانے والے ڈی این اے کے نمونے یکساں تھے۔

’حاصل شدہ معلومات کے مطابق انسانوں میں خطرناک مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم کرونا وائرس ایک متاثرہ اونٹ کے قریب جانے سے انسانوں میں منتقل ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NIAID
Image caption جون 2012 میں اس وائرس کے پہلی بار منظرعام پر آنے کے بعد سے 681 افراد متاثر ہو چکے ہیں

ناٹنگھم یونیورسٹی میں وائرس سے پیدا شدہ امراض کے ماہر پروفیسر جوناتھن بال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹ ہی قصور وار ہے۔ یہ غالباً پہلی بار ہے جب دونوں میں پایا جانے والا وائرس یکساں ہے اور اس کے نتیجے میں یہ انسانوں میں منتقل ہوا۔‘

ابھی تک یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ آیا متاثرہ شخص جو اونٹ کے ناک میں قطرے ڈال رہا تھا اس میں یہ وائرس سانس ہی کے ذریعے منتقل ہوا، کیونکہ اونٹنی کے دودھ میں بھی وائرس کی قابلِ ذکر مقدار پائی گئی ہے۔

کیمبرج میں ویلکم ٹرسٹ سینگر انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر پال کیلم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس تحقیق سے اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ مڈل ایسٹ ریسیپائریٹری سنڈروم کرونا وائرس اونٹوں ہی سے پھیلا ہے اور پہلی بار اونٹ میں اس وائرس کو الگ یا شناخت کیا گیا ہے۔‘

تاہم حال میں شائع ہونے والی دیگر تحقیقات میں انسانوں میں اس مرض کی تصدیق ہونے کے بعد اونٹوں سے جو نمونے حاصل کیے گئے ان میں یہ ثابت کرنا مشکل تھا کہ حتمی طور پر یہ وائرس کہاں سے آیا۔

جون 2012 میں اس وائرس کے پہلی بار منظرعام پر آنے کے بعد سے اب تک 681 افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ابھی اب تک حتمی طور پر معلوم نہیں کہ وائرس کہاں سے آیا، لیکن کہا جاتا ہے یہ سعودی عرب میں اونٹوں سے انسانوں میں پھیلا ہے۔

اسی بارے میں