زمین کے چاند پر ایک اور دنیا کے شواہد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 1980 کی دہائی سے اب تک تسلیم شدہ خیال یہی ہے کہ چاند ساڑھے چار ارب سال قبل زمین اور تھیا کے تصادم کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا

سائنس دانوں کو اس دنیا کے ثبوت ملے ہیں جس کے اربوں سال قبل زمین سے ٹکراؤ کے نتیجے میں زمین کا چاند وجود میں آیا تھا۔

اس بات کا انکشاف چاند سے لائی گئی ایک چٹان کے تجزیے کے بعد کیا گیا ہے جو خلائی جہاز اپالو پر وہاں جانے والے خلا باز واپس لائے تھے۔

اس چٹان سے سائنسدانوں کو اس ’سیارے‘ کی نشانیاں ملی ہیں جسے تھیا کا نام دیا گیا تھا۔

محققین کا دعویٰ ہے کہ اس دریافت سے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے کہ چاند ایک کائناتی تصادم کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔

1980 کی دہائی سے اب تک تسلیم شدہ خیال یہی ہے کہ چاند ساڑھے چار ارب سال قبل زمین اور تھیا کے تصادم کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔

اس سیارے کو یونانی دیوی ’تھیا‘ سے موسوم کیا گیا جو یونانی دیومالا میں چاند کی دیوی سیلین کی ماں تھی۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ’تھیا‘ زمین سے ٹکراؤ کے نتیجے میں بکھر گیا تھا جس کے بعد اس کے ملبے نے زمین کے بکھرے ہوئے ملبے سے مل کر چاند کی شکل اختیار کی۔

یہ چاند کی تشکیل کے بارے میں سادہ ترین توجیح ہے لیکن اس کی کمزوری کی بنیادی وجہ اب تک کسی سائنسدان کو چاند کی چٹانوں میں تھیا کے شواہد نہ ملنا تھا۔

ماضی میں کیے گئے تجزیوں کے نتائج کے مطابق چاند کی چٹانیں مکمل طور پر زمین پر پائے جانے والے عناصر سے ہی بنی تھیں جبکہ کمپیوٹر سمیولیشنز نے اس کے برعکس چاند کے بیشتر حصے کو تھیا کی باقیات دکھایا تھا۔

اب چاند کی چٹان کے باریک بینی سے کیے گئے تجزیے سے ان میں غیر زمینی عناصر کے شواہد ملے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور جرمن یونیورسٹی گوئیٹنجن کے پروفیسر ڈاکٹر ڈینیل ہرواٹز کا کہنا ہے کہ اب تک کسی کو زمین اور تھیا کے تصادم کے نظریے کا حتمی ثبوت نہیں ملا تھا۔

بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب بات اس مرحلے تک پہنچ گئی تھی کہ اس نظریے کی صداقت پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے تھے۔

ان کے مطابق ’تاہم اب ہم نے زمین اور چاند میں معمولی فرق تلاش کر لیے ہیں جو اس تصادم کے نظریے کی تصدیق ہے۔‘

تاہم کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ فرق ان عناصر کا ہو سکتا ہے جو چاند کی تشکیل کے بعد زمین میں جذب ہوئے ہوں۔

معروف برطانوی یونورسٹی آکسفرڈ کے پروفیسر ایلکس ہالیڈے بھی انھی سائنسدانوں میں سے ہیں۔ وہ حیران ہیں کہ چاند کی چٹان سے ملنے والے تھیا کے اثرات اور زمینی عناصر میں فرق بہت ہی معمولی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’آپ واضح اور بڑے فرق کی تلاش میں ہیں کیونکہ شہابیوں کی پیمائش کی بنیاد پر بقیہ نظامِ شمسی ایسا ہی ہے۔‘

ڈاکٹر ڈینیل ہرواٹز نے چاند کی چٹان اور زمین میں جو فرق تلاش کیا ہے وہ ان دونوں جگہ کی چٹانوں میں موجود آکسیجن کے آئیسوٹوپس میں ہے اور یہ فرق بظاہر آکسیجن کی مختلف اقسام کی شرح ہے۔

مریخ سے ملنے والے شہابیوں اور بیرونی نظامِ شمسی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فرق دو افراد کے انگلیوں کے نشانات میں فرق کی مانند بہت واضح ہوتا ہے۔

چنانچہ پروفیسر ہالیڈے اور دیگر سائنسدان اس مخصمے کا شکار ہیں کہ زمین اور تھیا کے فنگرپرنٹس تقریباً ایک جیسے کیوں ہیں۔

اسی بارے میں