مینڈک کی زبان میں تین گنا بڑا شکار دبوچنے کی طاقت

تصویر کے کاپی رائٹ Claudio Soto Azat
Image caption ماہرین کی ٹیم اب مینڈک کی زبان کی سطح کا مزید قریب سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ وہ اس کی چپکنے کی صلاحیت کا راز جان سکیں

ایک نئی تحقیق کے مطابق مینڈک کی زبان میں اس کے اپنے پورے جسم کے وزن سے تین گنا بڑی چیز کھینچنے کی طاقت ہوتی ہے۔

یہ جاننے کے لیے کہ قاتل مینڈک کہلایا جانے والے ہارن مینڈک ایک چوہا نگل سکتا ہے یا نہیں ماہرینِ علم الحیوانات نے اس کے سامنے ایک شیشے کا ایک ٹکڑا رکھا اور اس کے ساتھ ایک مزے دار جھینگر چپکا دیا گیا۔

اس وقت شیشے پر ایک مضبوط گرفت کی پیمائش کی گئی جب مینڈک کی زبان بھی بہت کم وقت کے لیے شیشے سے ٹکرائی اور اس پر لعاب بھی کم لگا۔

سائنٹیفک رپورٹس نامی جریدے میں شائع مطالعے کے مطابق مینڈک کی زبان کا عمل کسی چپکنے والی ٹیپ جیسا تھا۔

تجربے کا انعقاد کرنے والے جرمنی کی یونیورسٹی آف کیئل کے ڈاکٹر تھامس کا کہنا ہے ’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہم نے مینڈک کی زبان کی چپکنے کی صلاحیت کو ماپا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا ’مینڈک کی زبان کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بہت تیزی سے کام کرتی ہے۔ یہ محض ملی سیکنڈز کا وقت لگاتی ہے۔‘

جنوبی امریکہ میں ہارن مینڈک ایک مقبول پالتو جانور ہے جو اپنے جسامت سے ڈیڑھ گنا بڑے جانداروں کو دبوچ سکتا ہے جن میں ٹڈّے، مچھلیاں، چھپکلیاں، چھوٹے مینڈک اور چھوٹے چوہے شامل ہیں۔

ڈاکٹر تھامس کا کہنا ہے ’جنگل میں رہتے ہوئے ان مینڈکوں کے منہ میں جو کچھ پورا آتا ہے یہ اسے نگل جاتے ہیں۔‘

ماہرین کی ٹیم اب مینڈک کی زبان کی سطح کا مزید قریب سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ وہ اس کی چپکنے کی صلاحیت کا راز جان سکیں۔

اسی بارے میں