جنگلات کی کمی مچھلیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے

Image caption تحقیق کے مطابق آبی ذخائر کے قریب درختوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق جنگلات کے کاٹے جانے سے دریاؤں اور جھیلوں میں گرنے والے پتوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے جس کے نتیجے میں مچھلیوں کو کم خوراک میسر ہے۔

محققین کے اندازے میں خوراک کی کمی کی وجہ سے چھوٹی مچھلیوں کا حجم متاثر ہو رہا ہے اور مچھلیوں کی عمروں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔۔

تحقیق کے مطابق پانی کے ذخائر کے قریب مقام کے تحفظ اور تازہ پانی کی صحت مند مچھلیوں کی تعداد میں براہِ راست تعلق ہے۔ یہ تحقیق نیچر کمیونیکیشنز نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

گلوبل وارمنگ سے مچھلیوں کی جسامت متاثر

یونیورسٹی آف کیمبرج میں محکمہ پلانٹ سائنسز سے منسلک اور اس تحقیق کے رہنما مصنف اینڈریو کا کہنا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مچھلیوں میں کاربن پر مشتمل بائیو ماس کا تقریباً 70 فیصد درختوں اور پتوں سے آتا ہے، نہ کہ زیرِ آب خوراک کے ذرائع سے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جہاں پر درختوں سے گرنے والا مواد زیادہ پایا جاتا ہے، پانی کے ان ذخائر میں زیادہ بیکٹیریا پایا جاتا ہے جس سے پلینکٹن میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

پلینکٹن اُن حیاتیات کو کہا جاتا ہے جو کہ ایسے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو کہ پانی کے رخ کے خلاف تیر نہیں سکتے اور زیرِ آب بڑے جانوروں کے لیے خوراک کا اہم ذریعے ہیں۔

اینڈریو کا کہنا ہے کہ ’جن علاقوں میں زیادہ پلینکٹن ہوتے ہیں، وہاں کی مچھلیاں سب سے موٹی اور بڑی ہوتی ہیں۔‘

کینیڈا اور برطانیہ کے محقیقین کی ٹیم نے اس تحقیق کے لیے کینیڈا کی ڈیزی جھیل کے گرد آٹھ مقامات سے نمونے جمع کیے تھے۔

ان کی تحقیق کا محور ’ینگ آف دی ییئر‘ (گذشتہ بارہ ماہ میں پیدا ہونے والے) ییلو پرچ مچھلی تھی جو کہ شمالی امریکہ میں کھیلوں اور تجارتی حوالے سے اہم نسل کی مچھلی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تازہ پانی کی مچھلیاں انسانوں کی خوراک میں جانوروں سے حاصل ہونے والے پروٹین کا چھ فیصد حصہ ہیں۔

اسی بارے میں