’ٹیکسٹ پیغامات سے املا اور گرامر بہتر ہوتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption فون کا اب استعمال ٹیسکٹ پیغامات بھیجنے کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر مختصر پیغامات میں غیر روائتی ہجے اور گرامر کے استعمال سے بچوں کے قواعد اور ضوابط کے ساتھ باقاعدہ انگریزی زبان سیکھنے کے عمل پر منفی اثر مرتب نہیں ہوتا۔

اس تحقیق میں برطانیہ کے علاقے ویسٹ مڈلینڈ سے آٹھ سے سولہ برس کی عمر کے 160 بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔

تحقیق کرنے والوں نے ان بچوں کی املا اور گرامر کے پرچوں کا نجی یا دوستوں کو بھیجنے جانے والے ٹیکسٹ پیغامات میں استعمال کی جانے والی زبان سے موازنہ کیا اور ایک سال بعد پھر یہی عمل دھرایا گیا۔

اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کے پیغامات میں زیادہ جدت تھی ان کی املا اور گرامر نسبتاً زیادہ بہتر تھی۔

ان بچوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے تمام ’ٹیکسٹ‘ پیغامات کی نقل کریں۔

اس کے بعد ان کے املا، گرامر اور ذہانت کے ٹیسٹ لیے گئے۔ لفظوں کو مختصر کرکے پیغامات بھیجنے کی صلاحیت اچھی املا اور گرامر ساتھ ساتھ پائی گئیں۔

تحقیق کرنے والوں نے املا میں کی گئی تحریفوں اور گرامر سے انحراف کو نوٹ کر کے ان کا موازانہ انگریزی زبان کے تحریری امتحانوں سے کیا۔

اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ پرائمری سکول کے جو بچے اپنے پیغامات میں غیر روائتی زبان اور الفاظ استعمال کر رہے تھے انھوں نےایک سال بعد املا اور گرامر کے بہتر نتائج دکھائے۔

سیکنڈری سکول کے بچوں میں بھی جو بچے پیغامات کے استعمال میں زیادہ جدت پسند واقع ہوئے تھے ان کے انگریزی زبان کے پرچوں میں املا اور گرامر بہتر تھی۔

برطانوی یونیورسٹی کوونٹری میں بچوں کی نفسیات کے ماہر پروفیسر کریئر وڈ کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے آوازوں کی بنیاد پر لفظوں میں تحریف کر لیتے ہیں جس سے آوازوں کو سمجھنے میں ان کی صلاحیت بہتر ہو جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آوازوں کی بیناد پر لفظوں کو تبدیل کر کے پیغامات سے ان کی لفظوں کو سمجھنے کی مشق ہوتی رہتی ہے۔

تحقیق کاروں نے اساتذہ کو تجویز دی ہے کہ وہ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹیکسٹ پیغامات بھیجیں۔

اسی بارے میں