ایکس باکس کی نسل

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کیا للی اور آرچی سمجھتے ہیں کیا وہ انٹرنیٹ پر بہت وقت صرف کرتے ہیں۔ للی کہتی ہے ہاں لیکن آرچی کہتا ہے ’بالکل نہیں‘

میرے بچے جتنا وقت حقیقی دنیا میں گذارتے ہیں ان کا اُتنا ہی وقت ڈجیٹل دنیا میں گذرتا ہے۔

چاہے وہ اپنے دوستوں سے ایکس باکس لائیو یا فیس ٹائم پرگپیں لگا رہے ہوں یا انسٹاگرام پر اپنے پروفائل کو دیکھ رہے ہوں، ان دنوں مجھے تو یہی لگتا ہے کہ میرے گھر میں کوئی ورچوئل مہمان ہر وقت موجودہوتا ہے۔

میرے بچوں کی اپنی زندگی سے توقعات ان توقعات سے یکسر مختلف ہیں جو میری آٹھ دس کی عمر میں ہوا کرتی تھیں۔ میرے بچوں کا تعلق اس پہلی نسل سے ہے جنہیں اُس وقت بہت حیرت ہوتی جب وہ سیاہ سکریں پر انگلی پھیرتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بچے وہ پہلی نسل ہیں جو کھلونا ٹوٹنے پر پریشان نہیں ہوتی بلکہ کہتے ہیں کہ ’فکر کی کیا بات ہے، ہم ابھی نیا کھلونا ڈاؤن لوڈ کر لیں گے۔‘ دوسرے الفاظ میں آج کے بچوں کی حقیقی دنیا بغیر محسوس ہوئے ڈجیٹل دنیا میں ڈھل جاتی ہے۔

کمپیوٹر کے دور میں بڑے ہونے والے بچوں کی نفسیات کے ماہر اور مشہور کتاب ’گروئنگ اپ ڈجیٹل‘ کے مصنف ڈون ٹیپسکاٹ کہتے ہیں کہ ’موبائل دور کی نسل کے دماغ اصل میں مختلف ہیں۔‘

ڈون ٹیپسکاٹ کے خیال میں انسانی دماغ کی تاروں کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم اپنا وقت کیسے گذارتے ہیں۔‘

میری نسل کے لوگ ٹی وی دیکھتے دیکھتے بڑے ہوئے، اسی لیے ہم زیادہ مستعد دماغ نہیں بلکہ ہمارے دماغ چپ چاپ بیٹھ کر دوسروں کی سننے کے عادی ہو گئے ہیں۔ لیکن آج کل کے بچے سکول سےگھر پہنچتے ہی اپنے موبائل آن کر لیتے ہیں، ایم پی تھری پر موسیقی سننا شروع کر دیتے ہیں، اپنے دوستوں سے انٹرنیٹ پر باتیں کرتے ہیں اور ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کل کے بچے یہ سارے کام ایک ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔

تخلیے کی موت؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہمارے بچے بہت سا ڈجیمل ڈیٹا پیدا کر رہے ہیں، لیکن سوال پیدا ہوتا کہ وہ اس ڈیٹا پر کنٹرول رکھ سکیں گے۔

والدین جب بچوں کو اس قدر زیادہ مقدار میں معلومات یا کمپیوٹر ڈیٹا بناتے اور پھر اسے اپ لوڈ کرتا دیکھتے ہیں، تو وہ ضرور سوچتے ہیں کہ آیا ان کے بچے واقعی ایک ایسے دور میں بڑے ہو رہے کہ جب کوئی بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ کیا پرائیویسی یا اپنی بات خود تک رکھنے کا دور مر چکا ہے؟

برطانیہ میں پرائیویسی کے دفاع کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’بِگ بردر واچ‘ کی ڈائریکٹر ایما کار کہتی ہیں کہ ’ایک ایسے دور میں کہ جب ہماری زندگی کا ہر لمحہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور ریاست اور دوسرے ادارے ہماری ہر حرکت کو ریکارڈ کر رہے ہیں، ایسے دور میں یہ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئیے کہ ہم بچوں کو بتائیں کہ کون سی معلومات دوسروں کے ساتھ شئر کریں اور کون سی اپنے تک محدود رکھیں۔‘

’یہ کہنا کہ پرائیوسی کا دور ختم ہوگیا، بالکل غلط بات ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم ایک ایسے دور سےگذر رہے ہیں کہ جہاں پرائیویسی کی دنیا میں بنیادی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

’بچوں کو پوری طرح پتہ ہوتا ہے کہ کیا بات سب کے سامنے کرنی ہے اور کیا نہیں اور وہ جبلی طور پر سمجھ جاتے ہیں کہ انہیں ڈجیٹل دنیا میں کس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہے۔‘

ایما کار کی یہ بات میرے دل کو لگتی ہے کیونکہ میں جوں ہی اپنے موبائل سے کوئی تصویر لیتی ہوں، میرے بچوں کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے ’ممی آپ یہ تصویر فیس بُک پر تو نہیں لگائیں گی؟‘

یہاں تک کہ جب اپنے اس مضمون کے لیے میں نے بچوں کی ایک تصویر اتارنا چاہی تو مجھ پر سوالوں کی بوچھاڑ ہو گئی: ’آپ میرے بارے میں کیا لکھنے جا رہی ہیں؟ کیوں لکھنے جا رہی ہیں؟ آپ میری تصویر اتارنے کی بجائے گوگل پر جا کر کسی دوسرے بچے کی تصویر کیوں نہیں لے لیتیں؟

فُحش مواد

اتنی چھوٹی عمر میں انٹرنیٹ کے ساتھ بچوں کے اس قدر زیادہ رابطوں کے بارے میں بہت سی تحقیق ہو چکی ہے جس میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا ہمارے بچے سڑک کراس کرنے، مٹی یا ریت میں کھیلنے یا تتلیوں کے پیچھے دوڑنے سے زیادہ وقت کہیں انٹرنیٹ پر تو نہیں گذار رہے۔ انہیں ڈجیٹل دنیا میں رہنے کی لت تو نہیں پڑ جائے گی؟

مسٹر ٹیپسکاٹ کا خیال ہے والدین کے اس خدشے کا انحصار اس پر ہے کہ وہ خود کس قسم کے والدین ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’والدین کو خود فیصلہ کرنا ہوگا۔ مثلا کھانے کی میز پر کوئی بچہ ڈجیٹل آلہ استعمال نہیں کرے گا۔ آپ ریسٹورنٹ میں موبائل استعمال نہیں کر سکتے، وغیرہ، وغیرہ۔

’والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ ایک قسم کا معاہدہ کریں کہ وہ کس وقت ڈجیٹل آلات استعمال کر سکتے ہیں اور کس وقت نہیں۔‘

مسٹر ٹیپسکاٹ اس بات کے قائل نہیں کہ انٹرنیٹ کپمنیاں فحش مواد والی سائیٹس پر پابندی لگائیں، بلکہ ان کا خیال ہے کہ والدین کو بچوں سے خود بات کرنی چاہئیے اور انہیں بتانا چاہییے کہ انھوں نے کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں۔

مسٹر ٹیپسکاٹ کا خیال ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سکول ان ڈجیٹل آلات کے ماہر بچوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کیا ہم بچوں کی حقیقی دنیا اور ڈجیٹل دنیا میں توازن پیدا کر سکتے ہیں؟

’انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب بچوں کو ایک ایسی چیز پر آپ سے زیادہ عبور حاصل ہے جو کہ بہت اہم چیز ہے۔ ڈجیٹل دنیا ہمارے اداروں اور سکولوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔‘

مسٹر ٹیپسکاٹ کہتے ہیں کہ بہت سے سکول ابھی وقت سے پیچھے ہیں اور انھیں پتہ نہیں چل رہا کہ آج کل کے بچے کلاس روم کے اندر اتنا نہیں سیکھ رہے جتنا گذشتہ دور کے بچے سیکھا کرتے تھے۔

دوسری جانب سکولوں کے ماہر مارک لینگ ہیمر کہتے ہیں کہ ’آئے روز ہمیں ایسے بچوں کے بارے میں سننے کو ملتا ہے جو سکول تو داخل کر دیے جاتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کسی کی بات توجہ سے کیسے سنتے ہیں، دوسرے بچوں کے ساتھ کیسے کھیلتے ہیں، کیونکہ یہ بچے اپنازیادہ تر وقت ڈجیٹل دنیا میں گذارتے ہیں اور حقیقی دنیا سے دور ہوتے ہے۔‘

لیکن مسٹر ٹیپسکاٹ اس منطق کو بالکل نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جب ہم ڈجیٹل دنیا کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں کیونکہ یہ بات سچ ہے کہ آج کل کے بچے انسانی تاریخ کے ذہین ترین بچے ہیں!‘

اسی بارے میں