’توہین آمیز‘ ٹویٹس پر پابندی کا فیصلہ واپس

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹوئٹر نے پہلی بار پاکستان کی درخواست پر ٹویٹس تک رسائی بند کی تھی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے پاکستانی حکام کی درخواست پر مبینہ طور پر ’توہین آمیز‘ مواد ہونے کی وجہ سے بلاک کی جانے والی ٹویٹس اور ٹوئٹر اکاؤنٹس کو دوبارہ بحال کر دیا ۔

یاد رہے کہ 23 مئی کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹوئٹر نے پاکستان کی ٹویٹس یا ٹوئٹر اکاؤنٹ بلاک کرنے کی پانچ درخواستیں قبول کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ایک اہلکار عبدالباطن نے مئی میں پانچ ایسی درخواستیں ٹوئٹر کو بھیجیں جن میں مخصوص اکاؤنٹس، ٹویٹس اور سرچز کو روکنے کا کہاگیا تھا۔ یہ تمام درخواستیں ایسے اکاؤنٹس، ٹویٹس اور سرچز کے بارے میں تھیں جن میں مبینہ طور پر مذہب یا رسالت کی توہین کی گئی تھی۔

ٹوئٹر نے کہا ہے کہ انھوں نے ’درخواستوں کا مکمل جائزہ لیا اور پاکستانی حکام کی جانب سے مزید تفصیلات فراہم کرنے میں ناکامی پر پچھلے دنوں روکے جانے والی ایسی ٹویٹس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

انٹرنیٹ پر سنسر شپ اور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم بولو بھی نے ایک پریس ریلیز میں ٹوئٹر کی جانب سے اس قدم کا خیر مقدم کیا مگر کہا کہ ’انہیں ٹوئٹر کی جانب سے اس سارے عمل میں معلومات کی عدم دستیابی اور شفافیت پر تشویش ہے کہ کیسے ٹوئٹر اس طرح کی درخواستوں پر عمل در آمد کرتا ہے۔‘

پاکستان میں انرنیٹ کے حقوق کے لیے کام کرنے والے مختلف کارکنوں نے ٹوئٹر پر زور دیا ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمام درخواستوں پر فیصلوں کو شفاف بنائے تاکہ حقائق کی بنیاد پر فیصلہ ہو اور اس قسم کی صورتحال سے بچا جا سکے۔

اسی بارے میں