صارفین کے’نفسیاتی تجربے‘ پر فیس بک کے خلاف شکایت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جمعرات کو فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سنیڈبرگ نے جس طرح تجربہ کیا گیا اس کے لیے معافی مانگی ہے

فیس بک کے خلاف اپنے صارفین پر نفسیاتی تجربے کرنے پر امریکہ کے وفاقی ٹریڈ کمیشن میں باضابطہ طور پر شکایت درج کی گئی ہے۔

اس تجربے میں فیس بک نے نیوز فیڈ اور پوسٹوں کو ’اس انداز میں الٹ پلٹ‘ کیا تھا کہ صارفین کے جذباتی اظہار پر کنٹرول کر سکے۔ یہ تجربہ سنہ2010 میں ایک ہفتے کے دوران فیس بک کے تقریباً سات لاکھ صارفین پر کیا گیا تھا۔

یہ شکایت ڈیجیٹل حقوق کے گروپ الیکٹرانک پرائیویسی انفارمیشن سنٹر (ایپک) نے داخل کرائی ہے۔

فیس بک نے کہا ہے کہ وہ اس شکایت کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

اپنی شکایت میں ایپک نے کہا ہے کہ فیس بک نے اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کی ہے جس میں انسانوں پر کیے جانے والے تجربات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

فیس بک کی اس تحقیق میں نیوز فیڈ کے ساتھ ’شاطرانہ انداز میں چھیڑ چھاڑ‘ کی گئی تھی اور اس میں امریکہ کی دو یونیورسٹیاں کورنیل یونیورسٹی اور سان فرانسسکو میں قائم کیلیفورنیا یونیورسٹی شریک تھیں۔

Image caption فیس بک نے ایف ٹی سی کے سنہ 2012 کے حکم کی خلاف ورزی بھی کی ہے

ایپک نے اپنی شکایت میں کہا کہ ’کمپنی نے دانستہ طور پر لوگوں کے جذبات سے کھیلا ہے۔‘ اس کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا کہ فیس بک نے اپنے صارفین سے اس طرح کے کسی تجربے کی اجازت بھی نہیں لی اور یہ کہ تنظیم کی شرائط اور ضوابط بھی اس طرح کے تجربے کی اجازت نہیں دیتے اور نہ ہی تجربہ کرنے والوں کو اعداد و شمار فراہم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

ایپک نے کہا کہ سماجی رابطے کا یہ عمل ’فریب کاری اور دھوکہ دہی‘ کے مترادف ہے اور اس لیے اس کے خلاف وفاقی ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کو کارروائی کرنی چاہیے۔

فیس بک نے ایف ٹی سی کے سنہ 2012 کے حکم کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس میں ضارفین کے اعداد و شمار کے تحفظ کی بات کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے انفارمیشن کمشنر بھی اس بارے میں تفتیش کر رہے ہیں کہ کیا فیس بک نے اپنے نفسیاتی تجربے کے دوران کہیں ذاتی معلومات کےتحفظ سے متعلق قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی ہے۔

بہر حال جمعرات کو فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سنیڈبرگ نے معافی مانگی ہے۔

اسی بارے میں