ایلزہائمرز پر تحقیق میں بڑی پیش رفت

تصویر کے کاپی رائٹ HINKSTOCK
Image caption اس ٹیسٹ کو کلینک میں استعمال کے لیے موزوں قرار دینے میں کئی سال لگیں گے: ڈاکٹر آئن پائک

برطانوی سائنس دانوں نے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ایلزہائمرز کی بیماری کی تشخیص کرنے میں ’بہت بڑی پیش رفت کی ہے۔‘

ایک ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق کے دروان خون میں ایک خاص قسم کی پروٹین کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے ذریعے 87 فیصد درستی کے ساتھ ڈیمینشیا یا دماغی انحطاط کے آغاز کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایلزہائمرز اور ڈیمنشیا کے جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کو ڈیمنشیا کی ادویات پر تجربات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیسٹ فی الحال دستیاب نہیں ہے اور ڈاکٹر اسے اپنی سرجری میں استعمال نہیں کر سکتے۔

ایلزہائمرز کے علاج کے لیے ہونے والی تحقیق ناکامیوں کا شکار رہی ہے۔ سنہ 2002 سے سنہ 2012 کے دوران ایلزہائمرز کو روکنے یا اسے ختم کرنے کے لیے کیے جانے والے 99.6 فیصد تجربات ناکام ہوئے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایلزہائمرز لاحق ہونے کے تقریباً ایک دہائی بعد اس کا پتہ چلتا ہے جس کی وجہ سے اس کا علاج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈیمنشیا پر ہونے والی تحقیق میں اس بات پر تحقیق کو ترجیح دی جا رہی ہے کہ اس کے شکار مریضوں میں اس مرض کی جلد از جلد تشخیص کی جا سکے۔

تحقیق کاروں کی اس ٹیم میں یونیورسٹی اور صحت کی صنعت سے تعلق رکھنے والے سائنس دان شامل ہیں۔ ان سائنس دانوں نے 452 صحت مند، 220 معمولی دماغی انحطاط والے مریضوں اور 476 ایلزہائمرز کے مریضوں کے خون کاموازنہ کرتے ہوئے پتہ لگایا کہ ان میں کیا فرق ہے۔

وہ یہ 87 فیصد درستی کے ساتھ معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے کہ معمولی دماغی انحطاط والے مریضوں میں کون کون آئندہ سال ایلزہائمرز کا شکار ہوں گے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر سیمون لوسٹون نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کی نشان دہی کر سکیں جو اس وقت سے پہلے طبی تجربات میں شامل ہو سکیں، جتنا وہ اب شامل ہو رہے ہیں۔‘

پروٹیوم سائنس کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر آئن پائک نے کہا کہ ’پروٹین کا ٹیسٹ یقیناً ایک بہت بڑی پیش قدمی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس ٹیسٹ کو کلینک میں استعمال کے لیے موزوں قرار دینے میں کئی سال لگیں گے۔‘

ایلزہائمرز ریسرچ یوکے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایریک کاران نے خبردار کیا کہ ٹیسٹ کی موجودہ درستی کی سطح میں صحت مند لوگوں کو یہ بتانے کا خدشہ ہے کہ وہ ایلزہائمرز کی بیماری کا شکار ہونے والے ہیں جس سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں