2030 تک ایڈز پر قابو پانا ممکن ہے: اقوام متحدہ

Image caption ’گذشتہ تین سالوں میں ایڈز سے ہونے والی اموات میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایڈز کی ایک تازہ رپورٹ میں امکان ظاہر کیا ہے کہ 2030 تک ایڈز کی وبا پر قابو پا لیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایچ وی سے متاثرہ نئے مریضوں اور ایڈز کے باعث اموات میں کمی واقع ہو رہی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مرض پر قابو پانے کے لیے ’موجودہ کوششیں کافی نہیں ہیں‘ اور مزید بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب فلاحی تنظیم میڈیسن سان فرنٹیئر نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ تر مریضوں کو ایچ آئی وی کی ادویات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد کو ایچ آئی وی انفیکشن ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2001 میں ایچ آئی وی کے نئے مریضوں کی تعداد 24 لاکھ تھی جبکہ 2013 میں یہ تعداد کم ہو کر 21 لاکھ تک آ گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس عرصے کےدوران ایچ آئی وی کے نئے انفیکشنز میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں ایڈز سے ہونے والی اموات میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور جنوبی افریقہ اور ایتھیوپیا میں بھی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صورتحال میں بہتری کی وجہ ادویات تک رسائی ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ کے مطابق ان مردوں کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا ہے جو ایچ آئی وی سے بچنے کے لیے ختنے کروا رہے ہیں۔

تنبیہ

اگرچہ اعداد و شمار کافی حوصلہ افزا ہیں لیکن صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے۔ ایچ آئی وی کے ہر دس میں سے صرف چار مریض اینٹی ریٹرو وائرل ادویات لے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ایچ آئی وی کے مریضوں کی کُل تعداد میں سے تین چوتھائی مریض 15 ممالک میں پائے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق: ’پچھلے پانچ سال میں کافی کچھ حاصل کیا گیا ہے۔ کیا کارآمد ہے اور کہاں مشکلات ہیں، اس کا تعین کیا جا چکا ہے اور ایڈز کا خاتمہ ممکن ہے۔‘

اقوام متحدہ کے ادارے برائے ایڈز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مشیل سدیبے کا کہنا ہے: ’اگر ہم 2020 تک بھرپور کوششیں کریں تو 2030 تک ایچ آئی وی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو اس مرض پر قابو پانے کے لیے مزید ایک دہائی بھی لگ سکتی ہے۔‘

میڈیسن سان فرنٹیئر کی ڈاکٹر جینیفر کوہن کا کہنا ہے: ’ترقی پذیر ممالک میں سوا کروڑ افراد کا علاج کرنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے لیکن اب بھی اس مرض میں مبتلا 50 فیصد افراد کو ادویات تک رسائی نہیں ہے۔ نائیجیریا میں 80 فیصد مریضوں کو علاج تک رسائی نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں