مریض کے منہ سے 232 دانت نکالے گئے

Image caption اشیک کی بیماری کو انتہائی غیر معمولی بتاتے ہوئے ڈاکٹر دھوار کا کہنا ہے کہ اپنے 30 سالہ کریئر میں انھوں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا

بھارت میں ڈاکٹروں نے ایک 17 سالہ لڑکے کے منہ سے سات گھنٹے کے آپریشن کے بعد 232 دانت نکالے ہیں۔

ممبئی میں جے جے ڈینٹل ہسپتال کی ڈاکٹر سنندا دھوار نے بی بی سی کو بتایا کہ اشیک گاوائی کو اپنے جبڑے کے دائیں حصے میں سوجن کی وجہ ہسپتال لایا گیا تھا۔

اشیک 18 ماہ سے تکلیف میں تھے اور مقامی ڈاکٹروں کی مسئلے کی تشخیص میں ناکامی کے بعد گاؤں سے شہر آئے تھے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی ’غیر معمولی اور ورلڈ ریکارڈ‘ صورتحال ہے۔

ڈاکٹر دھوار کہتی ہیں کہ اشیک کے منہ میں ’کمپلکس کمپوزٹ اوڈوٹوما‘ کی بیماری تھی جس میں ایک بے ضرر ٹیومر کی طرح ایک مسوڑہ کئی دانت بنا لیتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’پہلے تو ہم اسے کاٹ نہیں سکے اسی لیے ہمیں بنیادی طریقہ کار کے تحت چھینی کی مدد سے کام کرنا پڑا۔ مگر بعد میں جب ہم اسے کھولا تو موتیوں جیسے دانت ایک ایک کر کے نکلنے لگے۔ ہم نے شروع میں کو انھیں جمع کرنا شروع کیا مگر پھر ہم تھک گئے۔ کل ملا کر ہم نے 232 دانت نکالے۔‘

پیر کو ہونے والے اس آپریشن میں دو سرجن اور دو معاون تھے۔ اشیک کے اب 28 دانت ہیں۔

اشیک کی بیماری کو انتہائی غیر معمولی بتاتے ہوئے ڈاکٹر دھوار کا کہنا ہے کہ اپنے 30 سالہ کریئر میں انھوں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ اتنے دلچسپ کیس پر کام کر کے انھیں خوشی ہوئی۔

اس کنڈیشن کے بارے میں موجود معلومات کے مطابق یہ عموماً اوپر کے جبڑے کو متاثر کرتی ہے اور اس سے پہلے آج تک ایک ٹیومر میں سے زیادہ سے زیادہ 37 دانت نکالے جا چکے ہیں۔

تاہم اشیک کے کیش میں یہ ٹیومر نچلے جبڑے میں موجود تھا اور اس میں دو سو سے زیادہ دانت تھے۔

اشیک کے والد نے مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا کئی ماہ سے شکایت کر رہا تھا۔’میں پریشان تھا کہ یہ کہیں کینسر نہ ہو، اسی لیے میں اسے ممبئی لے آیا۔‘

اسی بارے میں